30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۱۰ تا ۲۱۲: مسئولہ سید منیر الدین پیشکار محلہ کلال ٹولہ گیا ۱۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا کسی نامعلوم شخص کا بیل یا گائے زید کے جانوروں میں شامل ہوگیا،اور زید نے اس کو پکڑ کر اپنے قبض وتصرف میں رکھا،اور ایام قربانی میں چونکہ وہ دو برس سے کم کا تھا اس لئے اس کو اپنی لڑکی کی گائے سے بلا علم لڑکی کے بدل کر اس لڑکی کی گائے کو قربانی دیا اور غیر سے ذبح کرایا اور اس غیر کو گائے کے کل قصہ مذکور سے واقفیت نہیں۔
(۱)ایسی قربانی جائز ہے یانہیں؟ (۲)ذبح کرنے والا گنہ گارہوگا یانہیں؟
(۳)تین سال کی گائے جس کے سینگ ہنوز نمودار نہ ہوئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)جانور کو تصرف میں رکھناحرام تھا،اسے بیٹی کی گائے سے بدلنا حرام تھا،اس گائے کی قربانی حرام تھی۔
(۲)ذابح پر اس کا ذبح کرنا حرام تھا،دونوں سخت گنہگارہوئے،پھر اگر بیٹی نے اپنے گائے کی قیمت نادانی میں اپنے باپ سے لے لی،تو اس کے باپ کی قربانی ادا ہوگئی ورنہ نہیں،درمختار میں ہے:
|
یصح لوضحی شاۃ الغصب ان ضمنہ قیمتہا حیۃ [1]ای قیمتہا لو کانت حیۃ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگرمغصوبہ بکری قربان کردی اور اس پر ضمان زندہ بکری والا دے دیا تو قربانی صحیح ہوگی واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
(۳)جب دوسال کا مل کی ہوگئی قربانی کے قابل ہوگئی اگر چہ سینگ نہ نکلیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: مسئولہ عبداﷲ عرف دین محمد صاحب ساکن شہر کہنہ بریلی محلہ روہیلی ٹولہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے ایك اہل ہنود سے گائے مبلغ(پینتالیس مہ للعہ)روپیہ میں خرید کی تھی،اس ہنود نے خرید کرتے وقت دریافت کیا تھا کہ تم کس واسطے اس گائے کولیتے ہو،میں نے اس شخص سے کہا کہ پالنے کو لیتاہوں اور اصل میں واسطے قربانی کے لی تھی،تو ایك مسلمان نے اس شخص سے کہا انھوں نے قربانی کے واسطے لی ہے۔اور میں ریلوے کے بڑے بابوں کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع