30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشراء لما بینا [1](ملخصا)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
شریك بنانا مکروہ ہے۔(ملخصا)(ت) |
مسئلہ ۲۰۷: مرسلہ عبداﷲ خان از شہرانبالہ محلہ وکیل پور یکم صفر ۱۳۳۵ھ
جناب مولانا صاحب! بعد سلام علیکم کے واضح ہو کہ بقر عید کی قربانی میں بکرا خصی جائز ہے یا نہیں،اور جو کہ قربانی کرے اس کو روزہ رکھنا جائز ہے کہ نہیں؟
الجواب:
خصی کی قربانی افضل ہے اوراس میں ثواب زیادہ ہے۔اور عید کے دن کا روزہ حرام ہے۔ہاں پہلی سے نویں تك کے روزے بہت افضل ہیں اس پر قربانی ہو یا نہ ہو،اور سب نفلی روزوں میں بہتر روزہ عرفہ کے دن کا ہے۔ہاں قربانی والے کو یہ مستحب ہے کہ عید کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے قربانی ہی کے گوشت میں سے پہلے کھائے،مگریہ روزہ نہیں،نہ اس میں روزہ کی نیت جائز،کہ اس دن اور اس کے تین دن روزہ حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: مرسلہ قاضی سید واجد علی صاحب مقام جاود ضلع ندسور ریاست گوالیار ن یمچ دروازہ ۱۷ صفر ۱۳۳۵ھ
ایك بچہ بکری کا ہے اور وہ کتی کے دودھ سے پرورش پایا،اس کی قربانی کریں تو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
جب سال بھر کا ہوجائے اس کی قربانی جائز ہے۔والمسئلۃ فی الخانیہ [2]وغیرہا(یہ مسئلہ خانیہ وغیرہا میں ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۰۹: از بنگالہ میمن سنگھ قصبہ کھولا مرسلہ میاں جاں سرکار ۲۶ جمادی الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،ما قولکم رحمکم اﷲ تعالٰی(اﷲ آپ پر رحم کرے آپ کیا فرمان ہے)کہ ہندہ نے بکری پالی تھی،اس نے ایك بچہ جنا،بعدہ وہ بکری بقضائے الٰہی مرگئی اس بچہ کی ہندہ مذکورہ نے اپنے پستان کے دودھ سے پرورش کیا،پھر خصی کردیا،اب وہ بچہ بڑ اہوگیا،ہندہ اس کو قربانی کرنا چاہتی ہے۔اگر قربانی رے تو ہندہ مذکورہ اور اس کے خاوند کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع