30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کم مدت کا،تو اس کتاب کا درج کردیا جائے تاکہ یہاں دیکھ کر اطمینان حاصل کیا جائے۔بینوا توجروا
الجواب:
بکرا بکری ایك سال سے کم کا قربانی میں ہر گز جائز نہیں،نہ اس پر قربانی کی نیت صحیح وہ اس کی ملك ہے جو چاہےکرے،قربانی کے لئے دوسرا جانور لے ہاں اگر یہ نیت کی ہو کہ آئندہ سال اس کی قربانی کروں گا تو اسے قربانی ہی کے لئے رکھے،اس کا بدلنا مکروہ ہے۔درمختارمیں ہے:
|
صح ابن خمس من الابل۔وحولین من البقر و الجاموس وحول من الشاۃ والمعز [1]۔ |
پانچ سال کا اونٹ،دو سال کی گائے اور بھینس،اور ایك سال کی بکری اور بھیڑ،کی قربانی صحیح ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
فی البدائع تقدیرھذہ الاسنان بما ذکر لمنع النقصان ولا الزیادۃ فلو ضحی بسن اقل لا یجوز و باکبر یجوز وھو افضل [2]۔ |
بدائع میں ہے کہ ان عمروں کا بیان جو مذکور ہا کمی کو روکنے کے لئے ہے زیادتی کو مانع نہیں،تو عمرمیں اگر قلیل سی کمی ہو تو جائزہوگا اور بڑا ہو تو جائز ہے جبکہ بڑا افضل ہے۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
لو اشتری بقرۃ یریدان یضحی بہا عن نفسہ ثم اشرك فیہا ستۃ معہ جاز استحسانا وفی القیاس لا یجوز لانہ اعدھا للقربۃ فیمنع عن بیعہا تمولا،وجہ الاستحسان دفع الحرج والاحسن ان یفعل ذٰلك قبل الشراء،لیکون ابعد عن صورۃ الرجوع فی القربۃ وعن ابی حنیفۃ انہ یکرہ الاشتراك بعد |
اگر اپنے لئے گائے خریدی تاکہ قربانی دے پھر بعد میں چھ اور شریك کرلئے تو استحسانا جائز ہے جبکہ قیاس کے لحاظ سے جائز نہیں کیونکہ اسے اس نے قربت کے طورت پر خریدا تو مال کے حصول کےلیے فروخت کرنا منع ہے اور استحسانا جوازکی وجہ یہ ہے کہ حرج نہ پیدا ہو اور بہتریہ ہے کہ خریدنے سے قبل حصہ دار بنائے تاکہ قربت کے معاملہ میں رجوع کی صورت پیدا نہ ہو،جبکہ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالٰی سے خریدلینے کے بعد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع