30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۰۴:از بنارس محلہ کنڈی گڈٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
ماقولکم ایہا العلماء(اے علماء کرام! آپ کاکیا ارشاد ہے۔ت)اس مسئلہ میں کہ قربانی بھیڑ ششماہہ کی درست ہے یا نہیں؟ اکثر حدیثوں میں جو لفظ جزعۃ من الضان آیا ہے ا س سے ششماہی بھیڑ مرا دہے یا دنبہ یا دونوں؟ عبارت نہایہ شرح ہدایہ مندرجہ ذیل سے معلوم ہوتاہے کہ قربانی ششماہی بھیڑ کی جائزنہیں،اسی پر مولانا استاذنا مولوی عبدالحَی صاحب نے عمل فرمایا ہے۔چنانچہ یہ مسئلہ مولوی صاحب مرحوم کے مجموعہ فتاوٰی کی جلد اول ص ۱۹۱ میں موجود ہے۔عبارت شرح ہدایہ:
|
ویجزئ من ذٰلك کل الثنی فصا عدا الا الضان فان الجذع منہ یجزئ والتقیید بالضان لان الجذع من الابل والبقر والغنم لا یجزئ منہا الا الثنی [1]۔ بینوا بالکتاب تو جروا یوم الحساب۔ |
ان تمام جانوروں میں کامل سال یا اس سے زائد عمروالا جائز ہے ماسوائے بھیڑ کے کہ اس کا جذع یعنی کامل چھ ماہ والاجائز ہے،اور ضان یعنی بھیڑ کی قید اس لئے کہ اونٹ گائے اور بکری میں صرف کامل سال والا ہی جائز ہے۔کتاب سے بیان کیجئے یوم حساب اجر حاصل کیجئے۔(ت) |
الجواب:
شماہی بھیڑ کی قربانی بلا شبہ جائزہے جبکہ یکساں ہمجنسوں میں دور سے متمیز نہ ہوسکے۔
|
فی الدرالمختار صح الجذع ذوستہ اشہر من الضان ان کان بحیث لوخلط بالثنایا لایمکن التمیز من بعد [2]۔ |
درمختار میں ہے بھیڑ میں چھ ماہ کا جذع جو سال والے جانوروں میں خلط ہو تو امتیاز نہ ہوسکے تو وہ جائز ہے۔(ت) |
یہی شرط دنبہ میں ہے،اور دنبہ بھیڑ کی ایك ہی نوع ہیں اور دونوں کا ایك ہی حکم،اس قدر میں تو کسی کو کلام ہو ہی نہیں سکتا کہ جواز ششماہہ کاحکم احادیث صحیحہ وکتب فقہیہ میں بلفظ ضان واردہے۔اب مدار صرف ادراك معنی ضان پر رہا،اگر یہ لفظ اس بھیڑ کو بھی شامل تو قطعا یہ بھی اس حکم میں داخل والا لا،مگر بالیقین معلوم کہ ضان وہی چیز ہے جسے فارسی میں میش،اردو میں بھیڑ،اور اسی کی ایك صنف کو دنبہ کہتے ہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع