30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذا قلدتہ اتمت تقلیدہ فلم تعدالی ما عددت من المحال،ولم تنسب المسلمین الی الضلال والاضلال، وقد کان سألنی بعض تلامذہ ھذا العاصرا عنی صاحب التعلیق الممجد من بنارس فی اول ھذہ السنۃ عن فتیاہ المذکورۃ فاجیت باحرف تکفی و تشفی وبینت ان الجذع من ھذہ یجزی ویکفی،و ما ذکرنا ھہنا بتوفیق اﷲ تعالٰی،فہو حافل کافل بدفع کلاالوھمین،بل الرد الاشد علی من یجز التضحیۃ بہا لابجذعہا فانہ اذ قد جاز التضحیۃ فقد کانت من الانعام ولا انعام الا الانواع الاربعۃ واذ لیست من ابل وبقر ومعز۔وجب ان تکون من الضان فوجب اجزاء الجزع منہا اذا کان بحیث لو خلط بالثنایالم یتمیز من بعد وﷲ الحمد تعالٰی من قبل ومن بعد، وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد والہ اجمعین کان الفراغ عن ھذہ العجالۃ المسماۃ ہادی الاضحیۃ بالشاۃ الہندیۃ ۱۳۱۴ھ۔ |
ہے۔تو آپ کو بھی ان کی تقلید کرنی تھی تو اتنی ہی بات میں کرتے نہ کہ آگے بڑھ کر ایك محال بات کا دعوٰی کردیا،اور سب مسلمانوں کو گمراہ اور گمراہ گر کا خطاب دیا۔ مجھ سے لکھنوی صاحب کے ایك شاگرد نے ان کا یہ فتوٰی ذکر کرکے صورت حال دریافت کی تھی،میں نے چند جملوں میں اس کا خلاصہ لکھ دیا تھا،اور مسئلہ حق واضح کردیا تھا،یہ کلام تو اﷲ تعالٰی کی توفیق سے حافل اور کافل ہے۔ان دونوں وہموں کو دفع کرنے والا۔بلکہ اس کا تو رد شدید ہے جو ان کی قربانی جائز کرتا ہے۔اور ان کے بچے کی نہیں۔
بلا شبہ بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ جو دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوا س کی قربانی جائز ہے وصلی اﷲ تعالٰی علی خیر خلقہ محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین اس رسالہ ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ سے ۱۳۱۴ھ میں فراغت حاصل ہوئی۔ |
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع