30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعلیق الممجد لبعض ابناء الزمان فقد کانت تستاھل ان ترد الی الحق،وتحمل علی مااعطاہ کلام العلماء بجعل الوصف لزیادۃ الکشف دون الاحتراز بید انی احطت علما بان الرجل ینکر کون ضئین الہند من الضئین اعتراہ الوھم کما اعتراك انہا لا الیۃ لہا،وما یدررینی لعلك انما قلدتہ فیہ لکنہ وقف دونك ولم یتجاوز قدر تجاوزك بانکار التضحیۃ بہا اصلا،وانما زعم انہا لاتجوز التضحیۃ بجذع منہا[1]،حیث قال فی فتیاہ بکری اور بھیڑ اور ایسے ہی گائے اور اونٹ چھ مہینہ کا نہیں درست ہے۔فقط دنبہ مہینے کا درست ہے۔فالظاھر ان مرادہ ھواالتقیید زعما منہ بان الصوف اعم من الالیۃ،لکن لیس کلام المنح الذی عزاالیہ بہذا الاسلوب،وانما عبارتہا کما نقل بنفسہ ثمہ،والسیدان الفاضلان الطحطاوی و الشامی فی حواشی الدر ان الضأن ماتکون لہا الیۃ [2]اھ فلیس فیہا ذکر الصوف،ثم التقیید بالالیۃ و بالیتک |
نے تو انھوں نے حق کی تلاش میں تساہل برتا،اور کلام علماء میں ذکر وصف کو زیادتی کشف کے بجائے قیداحترازی سمجھا اور بھیڑ کو ضان میں شامل نہ ماننے میں وہ بھی اسی طرح وہم میں گرفتار ہوئے جیسے آپ نے"الیہ"کے لفظ سے دھوکا کھایا،غلب ہے کہ آپ نے اس معاملہ میں انھیں کی تقلید کی ہو،مگر ان سے آگے بڑھ گئے،کیونکہ وہ تو صرف یہ کہہ رہ گئے کہ چونکہ یہ ضان نہیں اس لئے اس کے ششماہہ بچے کی قربانی جائز نہیں،اورآپ نے سرے سے اس کو قربانی کے جانور سے ہی خارج کردیا۔ یہ بات فاضل لکھنو کے فتوٰی سے ظاہر ہے وہ کہتے ہیں بکری اور بھیڑ،ایسے ہی گائے اور اونٹ کا چھ ماہہ درست نہیں ہے۔فقط دنبہ چھ ماہہ درست ہے۔ اس سے اندازہ یہ ہوتاہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ"منح الخالق"کی عبارت میں(جس کا حوالہ انھوں نے دیا ہے)ضان کے بیان میں صوف کا ذکر ہے جس کو"مالہ الیۃ"سے مقید کیا ہے تو ا س کا مطلب یہی ہے کہ الیہ کی قید احترازی ہے حالانکہ خود ان کی عبارت اور امام طحاوی اور شامی کی روایت میں صوف کا ذکر نہیں ہے صرف مالہ الیۃ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع