30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولذاجازت التضحیۃ معہ کما نصوا علیہ فزعم ان ھذا ناقص فلا یلحق بالکامل قول ناقص خالف نصوص الائمۃ الاکامل۔ الخامس والعشرون۲۵:لئن تنزلنا عن کل ھذا و سلمنا ان الاالیۃ لہا فخ تاتی الخلافیۃ بین الامام الاعظم،والامام الثالث رضی اﷲ تعالٰی عنہما، و یجب بحکم الجواز بناء ان الفتوٰی علی قول الامام رضی اﷲ تعالٰی عنہ علی الاطلاق،ای مالم یتفق ائمۃ الفتیا علی الفتوی بقول صاحبہ اواحدھما کما نص علیہ فی الفتح والبحر والخیریۃ [1] وردالمحتار [2]وغیرھا من معتمدات الاسفار،و قد سردنا نصوصہا فی کتاب النکاح من فتاوٰنا ھذا اذا لم یرجع قول الامام فکیف اذا رجع قول الامام فکیف اذارجح وقد رجح ھہنا قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ من نصوا علی انہ لایعدل عن تصحیحہ لانہ فقیہ النفس اتدری من ھو ھو الامام قاضی خاں کما قالہ العلامۃ قاسم فی تصحیح القدوری، ونقلہ السید الحموی فی غمز العیون [3] و سید الشامی فی حاشیۃ الدر۔ |
لاحق نہیں ہوسکتی۔
تنبیہ بست وپنجم امام اعظم کے فتوٰی کی بنیاد پر فیصلہ: اور اگر ہم سب چھوڑچھا کریہی مان لیں کہ بھیڑ بے چکتی کا ہے تب بھی یہ انعام میں داخل ہے۔تو قربانی کا جانور ہے اور اسی جانور کی قربانی جائز ہونے نہ ہونے میں امام اعظم اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالٰی کا اختلاف ہے۔اور یہ معلوم ہے کہ ائمہ جب تك کسی مسئلہ میں امام اعظم کے خلاف کسی اور امام کے قول پر متفق نہ ہوں،فتوٰی امام کے قول پر ہے۔یہ مسئلہ فتح،بحر،نہر، خیریہ،شامی وغیرہ معتمد اسفار میں منصوص ہے،میں نے ان سب کو اپنے فتاوٰی کی جلد کتاب النکاح میں تفصیل سے نقل کیا ہے۔ یہ حکم تو امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے اس قول کا ہے جس کی ائمہ ترجیح میں سے کسی نے ترجیح نہ دی ہو،اور اس قول کی تو امام فقیہ النفس قاضی خاں نے ترجیح فرمائی ہے کہ اپنے اصول کے موافق اسی کو مقدم کیا،یہ مسئلہ بھی امام شامی اور امام طحاوی نے منصوص فرمایا۔ |
[1] بحرالرائق کتاب القضاء فصل المفتی ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۲۶۹،فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۳،ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۰۲
[2] ردالمحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی یبروت ۴/ ۵۱۳
[3] غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۴/ ۵۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع