30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیات جمع الیۃ وھی طرف الشاۃ [1]اھ وفسرھا فی القاموس بمارکب العجز من شحم ولحم [2] اھ وقد شرحنا عن ذا لعضو لہذا الحیوان الذی نتحاورفیہ فوجدناہ یحتوی علی لحم وشحم فتم معنی الالیۃ ۔وقد مناہ کلمات العلماء الکرام ان الالیۃ ان کانت صغیرۃ تشبہ الذنب جازت الاضحیۃ وھذہ الایا الشاۃ التی توجد فی بلادنا، فجزئیتہا منصوص علیہا فی الکتب المذہبۃ،وظہر انہا یصدق علیہا ما لہا الیۃ،وان ابیت الا اللجاج فابرز لنا ماعندك فی الحجاج واَبِنْ ماحد الیۃ ورسمہا،وعلی ای حدیجب ان یکون حجمہا بحیث لو صغرت عنہ لم تکن الیۃ وبین الالیۃ التی تشبہ الذنب خلقۃ،وکیف تکون ھذہ فی ہیأتہا،وکمك تکون فی بسطتہا واثبت کل ذٰلك بکلام ائمۃ الشان،لا بہوی النفس وھفوات اللسان،فان لم تفعل و لن تفعل فاقتف الحق حیث ظہر،فان من لم یرالشمس وھی بازغۃ،فعلیہ التسلیم لاھل النظر۔ الثالث والعشرون۲۳: تقرر مما تحرر ان الفقہاء فسروا الضان بثلثۃ تفاسیر |
ہیں۔(مجمع نقلا عن ابن اثیر) "ریڑھ کی آخری ہڈ ی پر جو چربی،یا چربی اور گوشت درنوں چڑھ جاتی ہے اسی کو الیہ کہتے ہیں(قاموس)اور بھیڑ کا بھی یہی حال ہے کہ اس کی دم پر بھی گوشت چربی الود ہوتاہے تو اس کو الیہ کون نہ کہے گا علماء کے حوالہ سے ہم لکھ آئے ہیں کہ معمولی چکتی والے کی قربانی جائز ہے۔تو کیا یہی مسئلہ بھیڑ کا جزئیہ نہ تھا تو بیشك اس بھیڑ پر بھی لہا الیۃ کی تعریف صادق ہے۔اور اگر اس پر بھی تسلی نہ ہو تو سوال یہ ہے کہ چکتی کی لمبان چوڑان کیا ہوگی کہ اس سے کم کو چکتی کے بجائے دم کہا جائے،اور زرا اس چکتی کا بھی خیال رہے۔جس کو فقہاء نے دم کی طرح چھوٹا کہا ہے۔ظاہر ہےکہ یہ سب باتیں ائمہ اعلام کے کلام سے ثابت کرنی ہوگی زبانی جمع خرچ کی سند نہیں۔
تنبیہ بست وسوم تعریفوں میں عدم تضاد:گزشتہ تحریروں سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ علماء نے ضان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع