30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لا تدخل فی سنخ قوامہ،وقد افادوا کما علمت انہا کالاعراض المفارقۃ لا انتفاء للحقیقۃ بانتفائہا، فانعدام الالیۃ رأسا لایخرج الضأن عن الضانیۃ، کما لو خلق انسان بلاید لا یخرج عن الانسانیۃ، وانما مدار التعریف ھھنا ان ہذا الوصف لایوجدا لا فی ھذہ الحقیقۃ ینتقل الیہا الذھن منہ بہذہ الوجہ لا انہا لا توجد الابہ،فمعنی قول القائل الضأن ماھو الیۃ النوع الذی تتحقق فیہ الا لیۃ الا انہ لایکون ضانا مالم تکن لہ الیۃ،اتقن ھذا فقد جلیت لك جلیۃ الحال بغیر مریۃ۔ |
کہ یہ میرے یہاں آکر عیبی ہوگئی ہے۔" میں اس موضوع پر کثیر نصوص پیش کرسکتاہوں کہ اطراف حیوان کا حکم اوصاف کاہے۔اور اوصاف کسی شے کی حقیقت میں داخل نہیں ہوتے جیسا کہ علماء نے بیان فرمایا ہے۔اور آپ بھی جانتے ہوں گے یہ ان اعراض مفارقہ کی طرح ہیں جن کے انتفاء سے حقیقت منتفی نہیں ہوتی،تو ضان بھی چکتی نہ ہونے کی صورت میں ضان سے نہیں نکل سکتا،جیسے وہ آدمی آدمی ہی رہتا ہے جس کے پیدائشی ہاتھ نہ ہو،اس وصف کے ساتھ تعریف کرنے کا مقصد صرف یہ ہوتاہے کہ یہ وصف اس حقیقت میں پایا جاتاہے تو اس وصف سے ذہن صرف اس حقیقت کی طرف منتقل ہوجاتاہے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ حقیقت اس وصف کے بغیر پائی نہیں جاتی |
تو"ماتکون لہ الیۃ"کا مطلب یہ ہوا کہ ضان جانور کی وہ قسم ہے کہ ا س میں چکتی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ بے چکتی کا ضان ہوگا ہی نہیں۔
|
الثانی والعشرون۲۲:ھذا ما سایرناك فیہ،وانت تزعم ان الالیۃ ھی الضخمۃ الکبیرۃ العریضۃ السمینۃ المحتویۃ علی لحم کثیر وشحم غزیر، المعروفۃ فی لسان الہند بچکتی،وھو زعم باطل لادلیل علیہ، و انما الا لیۃ طرف الشاۃ لا یشترط فیہا کبر ولا صغر و لا طول ولا قصر،قال فی مجممع البحار نقلا عن نہایۃ ابن الاثیر |
تنبیہ بست ودوم چکتی کی بحث:اب تھوڑی دیر چکتی پر بحث ہوجائے،آپ سوچتے ہوں گے کہ"الیۃ"(چکتی)جبھی ہوگی جب اس پر خوب گوشت،چربی،اور وہ خوب چوڑی ہو،جس کو ہندی میں چکتی کہتے ہیں،تو یہ ایك زعم باطل اور بلا دلیل ہے۔"الیہ"بکری کی دم کو کہتے ہیں،اس میں چھوٹے اور بڑے،لانبے اور ناٹے ہونے کی شرط نہیں،حوالے ملاحظہ ہوں،"الیات"الیۃ کی جمع،بکری کی دم کو کہتے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع