30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی موضعین،فاجمعۃ فانہ یدلك بفحواہ علی ان الصوف مختص بالضان،وہو المستفاد من تفاسیر اللغۃ،وبالجملۃ من عرب لسان العرب لم یعرب عنہ ان الصوف لیس الا للضان،فاما ان یعم افرادہ کما ھوا لواقع فمساو او لا فاخص وعلی کل فلا تکون ذات الصوف الامن الضان،وقد اعترفت ان حیواننا ھذا من ذوات الصوف فوجب ان یکون من الضان وفیہ المطلوب باتم شان۔ التاسع عشر۱۹:کان من قولی فیما سلف مایدریك لعل الثلثۃ الاول ھی التفسیر بالمساوی ھذا بالاخص والاٰن اقول قابضا للعنان بعد ما ارخیت مالی ترجیت وقد قضیت،اما تفطنت بما فی السابع والحادی عشر القیت،ان لو قصرت الضانیۃ علی شیئ اخص من الصوف بطل حصر الغنم فی نوعین فوجب ان یکون التفسیر بالمساوی،والتعریف بذات الالیۃ التعریف بالاخص علی ما توھمت من معناھا و النظر حقیقۃ لم تبع مرماھا۔ العشرون۲۰:ھل لك اجالۃ نظر فی کلمات الائمۃ الکرام، فانہم یتکلمون |
کہ اﷲ تعالٰی نے کس عام فرمایا،یہ خاص کریں صاحب مرقات کے متفرق کلام جو ہم نے دو۲ جگہ لکھا،ملاؤں تو ان کا فرمان بھی یہی ہے کہ صوف صرف ضان کے لئے ہے پس ایسی صورت میں صوف کو اگر دونوں(بھیڑ اور دنبہ)کے لئے عام مانا جائے تو مساوی کے ساتھ تعریف ہوئی ورنہ اخص کے ساتھ اعم کے ساتھ تعریف کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ توثابت ہوا کہ ضان صوف والا ہے۔اور ہمارا یہ جانور بھی صوف والا ہے۔لہذا اب بات واضح طو رپر ثابت ہوگئی کہ بھیڑ بھی ضان ہی ہے، تنبیہ نوزدہم تعریف بالا عم اور تعریف بالاخص: میں نے پہلے کہا تھا،ہوسکتاہے کہ ضان کی پہلی تعریف لفظ مساوی سے ہو اور"الیۃ"چکتی والی تعریف اخص کے ساتھ ہو،اب میں قطعیت کے ساتھ اسی بات کو دہرا تاہوں کیونکہ میں بتاچکا ہوں کہ اعم مانتے ہیں"غنم"کا حصر اس کی دو نوعوں میں ختم ہوجائے گا،اور بھیڑ تیسری قسم ہوجائے گی۔
تنبیہ بستم ائمہ وعلماء کے فتاوے:یہ لطیفہ بھی قابل ملاحظہ ہے دنبہ جس کے چکتی ہوتی ہے اگر کسی کے خلقۃ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع