30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
السادس عشر۱۶: استشہادك بمن التبیعضیۃ ان تمشیئ،ففی عبارۃ شرح النقایۃ دون سائر عبارات التی نقلنا بعضہا،ثم لاحجۃ لك فیہا ایضا فان ما فی قولہ ما کان من ذوات الصوف[1] للاستغراق والغردیۃ تاتی بالبعضیۃ فمن فی محلہا قطعا من دون دلالۃ علی عموم الحد،والمعنی ان الضان اسم کل فد من ذوات الصوف،کان تقول علی ما اشتھر باقتفاء،اٰثار الفلاسفۃ المبطلۃ ان الانسان اسم کل من کان من اھل النطق، افیفہم منہم ان الناطق یعم الانسان وغیرہ وانظر الی عبارۃ نفسك حیث نزلت عن ادعاء التفسیر بالاعم و اتیت علی تعبیر المساوات بین الضان و ذات الصوف علی قول مخالفک،فقلت لو قبل ان غرضہم من تفسیر الضان بمیش ان الضان ما کان من ذوات الصوف سواء کان لہ الیۃ اولا،کما ان میش کذٰلك الخ فاین ذھب عنك ھہنا من التبعیضیۃ۔ |
تنبیہ شانزدہم تعریف میں من تبیعیضیہ کی تحقیق:صرف شرح نقایہ کی عبارت میں لفظ من آیا ہے،ما کان من ذوات الصوف(جو اون دار میں سے ہو)اس کو بعض کے معنی میں لے کر یہ سہارا پکڑنا کہ یہاں مراد تمام صوف والے نہیں بلکہ بعض صوف والے ہیں(یعنی دنبہ)غلط ہے،کیونکہ اس سے قبل ما کان ہے۔جو استغراق کے لے ہے،تو یہاں مِنْ جو تبعیض کے لئے آتی ہے کلی کے افراد پر فردا فردا دلالت کے لئے ہے۔او رمعنٰی یہ ہے کہ ضان نام ہے اون والے جانور میں سے ہر ہر فرد کا،تو من کی تبعیض بھی سلامت رہی اور ماکا استغراق بھی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ فلاسفہ نے انسان کی اوندھی سیدھی جو تعریف کی ہے:الانسان حیوانٌ ناطقٌ۔اس کی تعبیر کوئی یوں کرے:الانسان اسم لکل ماکان من اھل النطق (انسان ہر اس کانام ہے جو نطق والوں میں سے ہو)تو کیا اس مثال میں کوئی یہ گمان کرسکتاہے کہ ناطق انسان سے اعم ہے۔ |
مجیب اگر خود اپنی عبارت پر غور کرے تو اپنے اس غلط استشہاد سے رجوع کرے کیونکہ جب اس پر یہ اعتراض ہوا کہ علماء نے فارسی میں ضان کو میش کہا،اور یہی چیز اردو میں بھیڑ کہی جاتی ہے لہذا بھیڑ ضائن میں داخل ہوئی،تو اس نے کہا اس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ"ماکان من ذوات الصوف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع