30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذلك صححہ المولی العلامۃ بحرالعلوم قدس سرہ فی شرح السلم،فقال المتقدمون قالو ان کان الغرض الامتیاز عن کل ماعداہ،فلا یجوز الاالمساوی والاخص،ان لم یکن الاعم ذاتیا لہ۔وان کان الغرض الامتیاز عن بعض الاغیار، فیجوز بالاعم والاخص والمساوی،واما المباین فان کان یورث الامتیاز فلا حجر فی التعریف بہ لکنہ نادر جدا،ووجہ حقیۃ ھذا المذھب ظاہر،فان الحاجۃ الی جمیع الاقسام المذکورۃ ثابتۃ،فاسقاط البعض عن درجۃ الاعتبار غیر لائق [1] اھ الکل مختصر واذا جاز الامران،فمن این لك ان اطباق المترجمین قاطبۃ، علی التفسیر بمیش،وتفسیر اکابر العلماء من الفقہاء والمفسرین والمحدثین،واللغویین بذات الصوف، اوبخلاف المعز،وھوالخارج من جادۃ الجودۃ، دون تفسیر البعض لصاحبۃ الالیۃ،وما یدریك لعل الثلثۃ الاول ھی التفسیر بالمساوی،وھذا تفیسیر بالاخص و لم تکن بیدیك علقۃ شبہۃ تدعوك الی ما ادعیت الا الاغترار بہذا الفظ فحسب،وقد شرد عنك وبردلنا ما قدمنا ونذکر بعد وﷲ الحمد من قبل ومن بعد۔ |
متقدمین کہا کہ کل ماعدا سے امتیاز مطلوب ہو تو مساوی یا اخص کے سوا جبك عام اس کا ذاتی نہ ہو،کسی سے بھی تعریف جائز نہیں،اور اگر غرض بعض ماعدا سے امتیاز ہو تو اعم واخص اور مساوی سبھی سے جائز ہے۔اور مبائن سے امتیاز ہوسکے،تو اس سے بھی تعریف جائز ہے لیکن ایك نادر الوجود بات ہے اور اس مذہب کی حقانیت ظاہر ہے کیونکہ وقت وقت سے ضرورت سارے ہی اقسام کی پڑی ہے۔تو بعض کو ترجیح دینا اور بعض کو ترك کرنا غلط ہے(شرح سلم بحر العلوم) تو ثابت ہوا کہ عام کی کوئی تخصیص نہیں خاص و عام دونوں ہی سے تعریف ہوسکتی ہے پس آپ کو یہ حق کب پہنچتا ہے کہ علمائے محققین مفسرین و محدثین کی ان تینوں تعریفوں کی (میش،اون دار،خلاف ماعز)تو آپ ساقط الاعتبار گردانیں اور بعض حضرات نے"صاحب الیہ"تفسیر کردی تو وہ قابل اعتبار ہوگئی،کیا ایسا ممکن نہیں کہ وہ تینوں تعریفیں مساوی کے ساتھ ہوں،اور چکتی والی تعریف تعریف بالاخص ہو، ہمارے اس نظرئے کے خلاف خوش اعتماد کے سوا اور کوئی دلیل نہیں،تو مسئلہ بالکلیہ ہمارے موافق ہوگیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع