30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والخامس عشر۱۵:الاوائل ان جوزوا التعریف بالاعم وھو الاقرب حیث لابُعد،کما قدمت فقد جوزوا التعریف بالاخص ایضا،والدلیل الدلیل فان عندھم لیس من شریطۃ التفسیر الا التمییز عن بعض ما یغایر، وھو حاصل فی الکل بل قد یمکن ان یحصل بالمباین فالقصر قصور،بل لك ان تقول ان من قبل الاعم فہو الاخص اقبل،لانہ یمیز المعرف عن کل ماعداہ، کما ھو ظاھر وقد نص علیہ الحسن چلپی فی حواشی المواقف وغیرہ فی غیرھا، قال المحقق الشریف فی شرحہا اما المتقدمون فقد جوزوا الرسم بالاعم و الاخص،واید بان المعرف لا بد ان یفید التمیز عن بعض الاغیار،واما عن جمیعھا فلیس شرطا لہ، فالمساواۃ شرط للمعرف التام دون غیرہ،حدا کان او رسما [1] اھ وکذلك ایدہ ایضا فی حواشیہ علی شرح المطالع کما نقلہ چلپی فیہا،وقال قدس سرہ فی حواشیہ علی شرح الشمسیۃ الصواب ان المعتبر فی المعرف تمییزہ عن بعض ماعداہ،اما عن الکل فلا فالاعم والاخص یصلحان للتعریف [2]اھ، |
تنبیہ پانزدہم متقدمین کا مسلک:مققدمین نے جس طرح اعم سے تعریف جائز رکھی(اور اس میں کوئی بعد بھی نہیں، جیسا کہ ہم نے بھی بیان کیا)انھوں نے اخص سے بھی تعریف کو جائز رکھا اور مبائن سے بھی امتیاز ہوجائے تو اس سے بھی تعریف جائز ہوگی،کیونکہ ان کے یہاں جمیع ماعدا سے امتیاز ضروری نہیں،بعض مشترکات سے بھی تمیز حاصل ہوجائے تو تعریف جائز ہے۔پس لفظ عام کی ہی کوئی خصوصیت نہیں رہی اخص بلکہ مبائن سے بھی تعریف جائز ہوئی۔بلکہ اخص تو جمیع ماعدا سے ممتاز بھی کردیتاہے۔البتہ کچھ فرد کو اپنے سے بھی خارج کردیتاہے۔ شہادتیں:O متقدمین نے اعم اور اخص دونوں سے تعریف جائز رکھی۔ دلیل یہ دی کہ تما مشترکات سے تمیز دینا مقصود نہیں،بعض اغیار سے تمیز مقصود ہوتی ہے۔البتہ معرف تام کے لئے مساوی ہونا ضروری ہے۔اوریہ بات حد و رسم کے لئے عام ہے۔ (حاشیہ شرح موافق میر سید شریف وشرح مطالع حسن چلپی) O معرف میں بعض ماعدا سے امتیاز مطلوب ہوتاہے تمام ما عدا سے نہیں،توخاص اور عام دونوں تعریف کی صلاحیت رکھتے ہیں(شرح شمسیہ میر سید شریف) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع