30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اخوان [1] ای ھما مترادفان ویدل علی ذٰلك انہ قال فی الفائق والحمد ھو المدح والوصف بالجمیل الخ فقد استدل بتفسیر اللغۃ علی الترادف مع انہ مصوب لجواز التفسیر بالاعم کما سیأتی وبالجملۃ فجواز شیئ شیئ وجواز الحمل علیہ شیئ اٰخر،فقد یجوز شیئ فی نفسہ ولا یحوز حمل الکلام علیہ لکونہ خلاف الظاھر فلا عدول عنہ الابدلیل زاھر۔ الثالث عشر۱۳: الحق عندی ان التفسییر بالاعم انما یجوز ان جازحیث وضح المفاد وقامت القرینۃ علی المراد،والا فلا قطعا لعرق التغلیط،لما فیہ حٓ من التلبیس والتخلیط،وطریقۃ اھل اللغۃ معروفۃ انہم اذا نکرواعرفوا واذا عرفوا نکروا فاذا قیل اُحد جبل وسعدانۃ نبت،لویفہم منہ الا انہ جبل معین ونبت مخصوص،ولئن قال ان اُحدا الجبل وسعد انۃ النبت لکان مخطئا قطعا،وان کان لم یرتکب الا تفسیرا بالاعم کیف وانہ افہم ان احدا یرادف الجبل والسعدانۃ النبت وھذا ان کان خفیا علی غبی، فلیس یخفی علی ذکی و اذا کان ھذا فی اللغۃ،فما ظنك بالشرعیات |
اخوان فرمایا،اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کا محتمل اور جائز ہونا اور بات ہے۔اور اس کا محمول اور مراد ہونا اور بات ہے۔ پس ثابت ہوا کہ متبادر سے پھرنے اور محتمل پر کلام حمل کرنے کے لئے واضح قرینہ ضروری ہے۔
تنبیہ سیزدہم توضیح مزید: اور جو سچ پوچھو تو ہمارے نزدیك اعم سے تفسیر اسی وقت جائز ہے جبکہ اس سے مراد خاص ہو۔مثلا اہل لغت کایہ دستور ہے کہ نکرہ بول کو معرفہ اور معرفہ بول کو نکرہ مراد لیتے ہیں۔اب انھوں نے کہا"اُحُدْ جبل"و" سَعْدَ اَنَۃُ نبت"تو اس کا ترجمہ ہوا"احد ایك خاص پہاڑ ہے، اور"سعد انہ ایك خاص گھاس ہے"تو یہاں تعریف احد میں ایك عام لفظ جبل بول کر بھی مراد خاص پہاڑ ہو،اور محاورہ نکرہ بول کر معرفۃ مرادلیا ہو،اس موقع پر کوئی جبل کے بجائے الجبل بولے تو خلاف محاورہ اور غلط ہوگا،حالانکہ اس بیچارے نے معرفہ کی تعریف میں لفظ معرفہ ہی استعمال کیا ہے،لیکن اس عبارت سے کوئی یہ نہ سمجھے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع