30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فحمل کلامہم علی مالیس بجید لیس بجید۔ الثانی عشر۱۲:لوفرضنا التساوی فی الجودۃ فلا یرتاب من لہ عقل ورزق سلیقۃ مافی فہم الکلام،ان الظاھر المتبادر من التعریف انما ھو التساوی ولا یجوز العدول عن الظاھر الا بدلیل،الا تری ان العلامۃ المحقق سعد الدین التفتازانی رحمہ اﷲ تعالٰی صرح فی حاشیۃ الکشاف کما نقلہ حسن چلپی فی حواشی التلویح،ان قول الفائق الحمد ھو المدح صریح فی الترادف [1] اھ مع انہ لو القائل فی التلویح ان کتب اللغۃ مشحونۃ بتفسیر الالفاظ بماھوا عم من مفہوما تہما [2]الخ،فلم یمنعہ تصریحہ ھذا عن جعلہ تفسیر الفائق الحمدبالمدح صریحا فی الترادف،وھل ھو الا ؛ لان الظاھر ھو ا لتساوی مالم یدل علی خلافہ دلیل،وبہ یجاب عن بحث چلپی، و ھکذا قال المولی السید الشریف(رحمۃ اﷲ تعالٰی) فی شرح الکشساف،قولہ الحمد والمدح |
تویہ علماء جس بات کو غیر عمدہ بتادیں،ان کے کلام کو اسی پر حمل کرنا کوئی عمدہ بات نہیں ہے۔ تنبیہ دوازدہم تشریح مزید:ایك بات یہ بھی قابل غور ہے کہ بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ عام اور مساوی دونوں کے ساتھ تعریف ہم پلہ ہی ہے۔پھر بھی سخن فہم خوب جانتے ہیں کہ لفظ تعریف سے ذہن کی سبقت تسادی کی طرف ہی ہوتی ہے اور بغیرکسی قرینہ کے متبادرکو چھوڑ کر اعم مراد لینا خلاف نقل و عقل ہے۔ امام تفتا زانی نے حاشیہ توضیح میں تصریح فرمائی کہ کتب لغت میں عام کے ساتھ تفسیر عام ہے۔" اس کے باوجود"فائق"کے قول"الحمد ھو المدح"کی شرح میں فرماتے ہیں کہ: "اس کا مطلب یہ ہے کہ حمد اورت مدح دومرادف لفظ ہیں۔"(شرح حاشیہ کشاف بحوالہ چلپی) اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہوا کہ احتمال اعم ہونے کے باوجود انھوں نے ظاہر متبادر و مساوی پر کلام"فائق"کو محمول کیا۔ ٹھیك اسی طرح میر سید شریف نے بھی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ تعریف اعم بھی جائز ہے۔شرح کشاف میں"المدح والحمد" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع