30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وغیاثك الذی استغثت بہ من تفسیر الضان بما یخالف المعز وبالعکس اذلو کان الفصل بینہا بشیئ اخص من الصوف لم یکن کل مالیس بضان معز اولا بالعکس بقاء مادۃ تفارق الصوف من ذٰلك الاخص خارجا منہا جمیعا عدم الضاینۃ لعدم الاخصی وعدم المعزیۃ لوجود الصوف،فہذہ احد واعشرون نصوصا،سبعۃ اضعاف ما جئت بہ کلہا قاضیۃ بہذہ التفسیر،ولعل ماترکناہ اکثر مما سردنا وقد اعترف الرجل وان لم یعرف فسیقضی العیان ان ھذا الحیوان من ذوات الصوف فہو من خصوص الضان فضلا عن عموم الغنم اوالانعام و التعریف بالاعم وان جاز عند الاوائل فلیس بجید بالاجماع۔قال المولی المحقق السید الشریف قدس سرہ الشریف فی شرح المواقف،اعلم ان اشتراط المساواۃ فی الصدق مماذھب الیہ المتاخرون،واما المتقدمون فقالوا الرسم منہ تام یمیز عن کل مایغایر منہ ونا قص یمیز عن بعض،وصرحوا بان المساواۃ شرط لجودۃ الرسم کیلا یتناول مالیس من المرسوم ولا یخلو عما ھو منہ [1] اھ مختصرا،وقال العلامۃ حسن چلپی فی حاشیۃ التلویح لاخلاف فی اشتراط المساوات الجودۃ التعریف [2]۔اھ |
غیاث اللغات کی عبارتوں کا مفاد بھی یہی ہے۔کیونکہ ضان اور معز کے علاوہ کوئی اور نوع ہوتی جس کی وجہ امتیاز چکتی ہو تو ضان اور معز میں جنس غنم کا انحصار باطل ہوا جاتاہے۔ یہ ۲۱ نصوص ہیں اور جو مذکور نہ ہوئے اس سے بہت زیادہ ہیں،سب اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ ضان اور معز میں فرق اون سے ہے چکتی سے نہیں،اس طرح مجیب نے لاعلمی میں ہی سہی،یہ اعتراف کرلیا کہ بھیڑ ضائن میں شامل ہے آگے علی الاعلان اعتراف کرنا پڑے گا،عام سے تفسیر ماننے میں ایك خرابی یہ بھی ہے کہ متقدمین نے اسے صرف مباح مانا ہے۔ایسی تعریف عمدہ نہیں ہے۔
میرسید شریف رحمۃ اﷲ علیہ نے شرح مواقف میں فرمایا: "متاخرین نے تعریف میں مساوات کی شرط لگائی اور متقدمین نے کہا کہ جو تمام مشارکات سے تمیز دے دے وہ رسم تام ہے۔اور جو بعض سے ممتاز کرے رسم ناقص ہے۔اور تعریف تبھی عمدہ ہے کہ مساوی سے ہو کہ امتیاز کامل حاصل ہو"اور حسن چلپی نے بھی حاشیہ تلویح میں فرمایا:تعریف کی عمدگی کے لئے مساوات شرط ضروری ہے" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع