30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان مالہ الیہ مغایر بالنوع لما لیست لہ الیۃ بالمعنی الذی توھم فظن ادخالہا جمیعا یؤدی الی التثلیث و لم یدرانہ ھوالواقع فیہ لما بینا ان ھذا الحیوان من الانعام قطعا واذ لیس من البدن فمن الغنم فلو کان نوعا مغایر الذوات الالیات لو جب التثلیث۔ التاسع۹:احسنت اذ ایقنت ان التفسیر بالاعم انما یجوز حیث یقصد التمییز عن بعض الاغیار ولکن دعواك ان ہہنا کذالك فمفسروا الضأن بمیش انما قصدوا المیز عن البعض،کلمۃ انت قائلہا لا برہان لك علیہا بل الحجۃ،ناطقۃ بخلافہا حیث کان المحل لبیان حکم لا یعد والضان کجواز الجزع کما فی عبارۃ الشیخ المحقق رحمہ اﷲ تعالٰی فی اشعۃ اللمعات[1] وغیرھا۔ العاشر۱۰: انما الخطاب بلغۃ العرب،فمالم یثبت النقل فالاحتجاج باللغۃ تام قطعا ولا یدفع بالاحتمال بناء علی ان اھل الشرع قد یصطلحون علی معنی اٰخر،بذٰلك استدل الامام المحقق علی الاطلاق محمد بن الہمام |
میں بنیادی دخل ہے۔اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ بنیاد ہی غلط ہے،تو یہ تدقیقات بھی بے حقیقت ہوگئیں،اور انھیں پر مبنی یہ حکم بھی کہ غنم کی دو ہی قسم نہ رہیں گی،بھیڑ کے بعد اس کی تین قسم بنیں گی۔ تنبیہ نہم ذات الصوف تعریف بالاعم نہیں:یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ کبھی کبھی تعریف وتفسیر لفظ اعم سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ مجیب نے دعوٰی کیا ہے۔لیکن یہ بات کہ لفظ ضان کی تفسیر میں میش کا ذکر بھی یونہی ہے۔بےحقیقت بات ہے۔ بلکہ شہادات اس کے خلاف ہے۔کیونکہ یہ تفسیر ایك ایسے حکم کے بیان کے سلسلہ میں ہے جو اضان کے ساتھ خاص ہے جیسے صاحب اشعۃ اللمعات کا یہ کہنا کہ ضان کا چھ ماہہ بچہ بھی جائز ہے۔ تنبیہ دہم دربارہ لغت فقہاء واوہاء:نیز یہ بات بھی صحیح نہیں کہ اعتبار فقہاء کی لغت کا ہےنہ کہ ادیبوں کی لغت کا،جب خطاب زبان عرب میں ہے۔تو جب تك منقول ہونے کا ثبوت نہ ہو ضروری ہےکہ لغوی معنی ہی مراد ہوں اس کی تائید ابن ہمام رضی اﷲ تعالی عنہ کے اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع