30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان یکون من المعز او من الضان،اذا الانعام منحصرۃ فی الاربع بتصریح العلماء کافۃ کما نص الامام البغوی فی المعالم،والامام الرازی فی المفاتیح والعلامۃ الرومی فی ارشاد العقل والمولی القاری فی المسلك المتقسط،و الفاضل طاہر فی مجمع البحار وغیرھم فی غیرھا لکن الاول باطل اذا المعز ذات شعر،وھذا باعترافك ذات صوف والمعز بُز وبکری و ھذا لیس بہا عند احد من الصبیان فضلا عن علماء اللسان فتعین ان یکو ن من الضان فانظرالی حججك کیف کرت علیك بالحجاج، فان الضان ومیش لوکان مختصۃ عند العرب والعجم بمالہ الیۃ وھذا لا الیۃ لہ بزعمك توجب ان یکون خارجا منہا،فوجب ان یکون داخلافی المعز وبُز،وقد قفیت علی نفسك انہ لیس منہا،فبطل انحصار الغنم فی نوعین، وقد کنت بہجت بہ نقلا واستنادا، و تعویلا واعتمادا ثم بطلانہ یقتضی ببطلان دعوٰك فان مدار التضحیۃ علی النعمیۃ دون خصوص الالیۃ و الضانیۃ۔ الثامن۸:کل ماشقق،ورقق،وظن ان قد دقق من کون میش حقیقۃ فی کذا ومجازا فی کذا او مشترکا بینہا الخ انما ھو علی زعم |
رازی نے مفاتیح میں رومی نے ارشاد میں ملا علی قاری نے ملسك المتقسط میں اور فاضل طاہر نے مجمع البحار میں کی ہے۔ اور ان کے علاوہ نے دوسری کتابوں میں کی ہے۔ اور آپ اس کو گائے یا اونٹ میں شامل کرنے کی جرأت کرہی نہیں سکتے۔ لا محالہ یہ ضان میں ہی شامل ہوگا،معز یا بکری تو ہوگا نہیں کہ اس کے اون ہوتاہے اور معز کے اون نہیں ہوتا، کیونکہ آپ کا یہ خود کااعتراف ہے کہ یہ اون والی ہے،تو دیکھئے آپ ہی کی دلیل نے آپ کا کیسا ردکیا اور صاف ظاہر ہوگیا کہ چکتی مابہ الامتیاز نہیں،ورنہ بھیڑ کو معز میں داخل کرناہوگا،اور آپ اس کو دونوں ہی سے خارج کرنے پر تلے ہوئے تھے،اور اسی سے آپ کے دعوٰی کا رد بھی ہوگیا کہ یہ قربانی کا جانور نہیں۔
تنبیہ ہشتم حقیقت ومجاز والی تدقیق کا جواب:اس پر مجب کی اس قسم کی ساری تدقیقات کہ میش ذوات الیہ میں حقیقت ہوگا یا مجاز یا مشترک،سب کا مبنٰی یہ تھا کہ چکتی کو میش کی حقیقت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع