30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفیہ المعز من الغنم ضد الضان [1]اھ،وتقدمت اٰنفا عبارات ذخیرۃ العقبٰی والصراح و انت المحتج بقول الغیاث گوسفند بمعنی میش مقابل بُز چنانکہ معز درعربی مقابل ضان ست [2]الخ،وحشیت علیہ بقولك ازیں عبارت صاف معلوم می شود کہ آں حیوان کہ عرب آں راضان گویند فرس آں رامیش گویند،وانچہ عرب آں معز گویند فرس بُز گویند،ونقلت عن الشیخ المحقق قدس سرہ غنم دوصنف ست معزکہ آں رابُز گویند وضان کہ آں رامیش خوانند [3]وایدتہ بقول الشامی الشاۃ بنوعیہ [4]اھ،فکان اجماعا علی ان ماکان من الغنم خارجا عن الضان، ومیش فہو داخل فی المعز وبُزوماکان منہا خارجا عن المعز وبز فہو داخل فی الضان ومیش،وقدبینا ان حیوانا ھذا من الغنم،وان ستربك فیہ فلن یستر بین احد ممن لہ قسط من العقل انہ من بہیمۃ الانعام،ثم لعلك تزھو بنفسك ان تدعی کونہ ابلا اوبقرا فاما |
معز بکریوں میں ضان کا ضد ہے۔(مختار الصحاح رازی) ذخیرہ عقبٰی اور صراح کی عبارتیں اوپر گزریں۔ O گوسفند معنی میں میش کے جو بز کا مقابل ہے جیسا کہ معز عربی میں ضان کا مقابل ہے۔(غیاث اللغات بحوالہ مجیب) O جس حیوان کو عرب ضان کہتے ہیں فارسی میں میش کہتے ہیں(تقریر مجیب) O غنم کی دو قسم ہے۔معزکہ اس کو بز کہتے ہیں،اور ضان کہ اس کو میش کہتے ہیں(شیخ محقق،بحوالہ مجیب) Oبکری اپنی دونوں نوعوں کے ساتھ(شامی بحوالہ مجیب)۔ تو ایك طرح اجماع ہوگیا کہ غنم صرف دونوں میں منحصر ہے،جوغنم معز نہیں وہ ضان ہے۔اور جو ضان نہیں وہ معز ہے۔تو لامحالہ بھیڑ کو بھی ضان یا معز کسی میں داخل ماننا پڑے گا،اور اگر کچھ شبہ ہو تو اتنا تو قطعی ہے کہ یہ بہیمۃ الانعام میں داخل ہے۔اور بہ اتفاق علماء انعام کی صرف چارقسمیں ہیں۔اس امر کی تصریح امام بغوی نے معالم میں اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع