30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
طوال الوبر،لکل منہا علی ظہرہ سنامان رفیعان، بینہما مجلس الراکب یکونان لہ کعودی الرحل، وقد قال العلامۃ القروینی فی عجائب الموجودات،ثم الامام الدمیری فی حیوۃ الحیوان انہ یجلب من الہند نوع من الضأن علی صدرہ الیۃ،وعلی کتفہ الیتان،وعلی فخذیہ الیتان،وعلی ذنبہ الیۃ وربما تکبرالیۃ الضأن حتی تمعنہ من المشی،زاد القزوینی فیتخذ لالیتہا عجلۃ توضع علیہا وتشد الی صدرھا،فیمشی الضان وتجر العجلۃ والا لیۃ علیہا [1]اھ،فہذہ اختلافات فی الاعضاء باصل الوجود و العدم،فضلا عن الصغر،والکبر،والطول والقصر، فہل یجوز لعاقل ان یحکم لذلك باختلاف النوع، وان احد من صنفی الا بل ذات کومین و ذات کوم، مثلا لیس من نوع الابل،لاتجوز التضحیۃ بہ،ولا تجب الزکوٰۃ فی سائمتہ۔ السابع۷:اطبق اھل التفسیر والحدیث والفقہ و اللغۃ من العرب والعجم،ان الغنم نوعان،ضان و معز، |
آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی،(۸)امام قزوینی نے عجائب المخلوقات اور دمیری نے حیوۃ الحیوان میں تحریرکیا، ہندوستان کے بعض دنبے آتے ہیں جن کے سینے پر چکتی ہوتی ہے اور دونوں مونڈھوں پر دو چکتی اور رانوں پر دو چکتی اور دم پر ایك چکتی ہوتی ہے جو اتنی بڑی ہوتی ہے کہ لکڑی کی چھوٹی گاڑی پر وہ چکتی رکھ دی جاتی ہے اور گاڑی دنبہ کے سینہ سے باندھ دی جاتی ہے جسے وہ کھینچتاجاتاہے۔ مذکورہ بالا سارے اختلافات جو اعضاء کی کمی بیشی میں واقع ہونے،چہ جائیکہ ان کے بڑے اور چھوٹے ہونے کا اختلاف،تو کیا کوئی عاقل اس کی وجہ سے جانوروں کی نوع میں اختلاف ہونے کی بات کرے گا اور کہے گا کہ یہ دوکوہان والے اونت،اونٹ ہی نہیں،نہ ان کی قربانی ہوسکتی ہے نہ یہ سائمہ جانوروں میں شمار ہوں گے نہ ان پر زکوٰۃ ہوگی۔
تنبیہ ہفتم توضیح مزید:عربی وعجمی اہل تفسیر و حدیث،اہل فقہ ولغت اس بات پر متفق ہیں کہ بکری کی دو قسمیں ہیں:ضان اور معز،جس کی |
[1] حیاۃ الحیوان باب الضاد المعجمۃ(الضان) مصطفی البابی مصر ۱/ ۶۳۴،عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات الضان مصطفی البابی مصر ص ۲۴۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع