30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مما وصفنا حتی لو ان ضائنین منہما متشابہی اللون،والجثۃ نظر ھما ناظر من قدام لم یکد یمیز بینہما کضائنین کذٰلك من ارض واحدۃ،نعم الالیۃ من احدھما عریضۃ قصیرۃ ومن الاخری ضئیلۃ طویلۃ ومثل ھذا الخلف بل اکثر منہ کثیرا مایوجد فی افراد نوع واحد باختلاف الاراضی واختلاف المادۃ وغیرہ ذٰلک۔ الاتری الی غلظ شفاہ الحبش،وصغر عیون الترك فطس انوف الصین، ولبعض من اتراك الوحوش علی عصعصہ لحمۃ زائدۃ قدر شبر یشبہ الذنب والہنۃ الناتیۃ بین الشفرین لاتوجد خلقۃ فی نساء المغرب،وربما یکون لانسان ستۃ اصابع وذکر الفقہاء ما اذا کان للمرء،یدان فی ید،او رجلان فی رجل اوکفان فی کف،ھل یجب غسلہا فی الوضوء،کما فی البحر،والنہر،والدر،والہندیۃ وغیرھا،ولقد رأیت لبعض البلاد جمالا جمیلۃ المنظر،لطاف الجسم، صغار الحجم،
|
کیونکہ ان میں تو مذکورہ بالا اوصاف میں سے کسی میں اختلاف نہیں،اگر ایك رنگ کے دنبہ اور بھیڑ کو آگے سے دیکھئے تو فیصلہ مثل ہوگا کہ کون بھیڑ ہے اور کون دنبہ،ہاں صرف یہ بات ہے کہ دنبہ کی دم چوڑی اور چھوٹی ہوتی ہے اور بھیڑ کی دم لمبی اور بالدار ہوتی ہے۔لیکن یہ کوئی بات نہیں اس سے بڑے بڑے اختلافات ایك نوع کے افراد میں اختلاف آب وہوا کی وجہ سے پائے جاتے ہیں،اور ان کا لحاظ کرکے کوئی اختلاف نوع کا حکم نہیں لگاتا۔ امثلہ(۱):آدمیوں میں حبشیوں کا ہونٹ نہایت موٹا ہوتا ہے،(۲)ترکیوں کی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہے(۳)چینیوں کی ناك چیپٹی ہوتی ہے(۴)اور بعض وحشی ترکیوں کی دم کی ہڈی پر دم ہی کی طرح ایك بالشت تك لمباگوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے(۵)عام عورتوں کی شرمگاہ میں جو پارہ گوشت اُبھرا ہوا ہوتا ہے مراکشی عورتوں میں خلقۃ نہیں ہوتا(۶)ایسا بھی تو ہوتاہے کہ آدمی کے کبھی چھ انگلی ہوجاتی ہے،چنانچہ فقہاء کا جزیہ ہے اگر کسی آدمی کے دو دو ہاتھ ہوں یا دو دو پاؤں یا ایك ہاتھ میں دو ہتھیلیاں تو کیا وضو میں دونوں کا دھونا واجب ہے۔یہ مسئلہ بحر،نہر،درر اور ہندیہ میں مصرح ہے۔ (۷) میں نے بعض شہروں میں اونٹ دیکھے ہلکے پھلکے،لمبے بال والے،جن کے پُشت پر دو کوہانیں تھیں جن کے بیچ میں ایك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع