30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اصواف الضاف واشعار المعز۔و بعد فلا شك ان ھذا لحیوان من بہیمۃ الانعام،ومن الاغنام ومما تجوز التضحیۃ بہ باجماع اھل الاسلام مسئلۃ واضحۃ جلیلۃ النبیان غنیۃعن البیان،لا تتناطح فیہا عنز ان وتد توارث التضحی بہ المسلمون،وعلماؤھم متظافرون،طبقۃ فطبقۃ وجیلا بعد جیل من دون نکیر منکر،ولا مراء عقیل فمن نسبہم جمیعا الی الضلال والاضلال فقد عتاوعصی،وشق العصا،یولی ماتولی،ولسوف یری، وقد کان الاعراض عن مثل ھذا امثل واحری،فان الامر اذانتہیٰ الی انکار الواضحات کان السبیل ترك التحاور،فانہا ھی المقاطیع للحجج الشامخات،والبراھین الغر،فمن یماری فیہا فیما ذا یوقن،وبای حدیث بعد ھا یؤمن ولکن وجوب اخماد الباطل وارشاد الغافل۔والرفق بضعفاء المسلمین کیلا یقعوا فی ضلال مبین، و تحسین الظن بالمسلم العاقل،فانہ ربما عثر،فاذا ذکر تذکر،واذا بصر ابصر،وانما العاقل من اقر وما اصر فاذاعلم الخبر ھجر الہجری وانکرا لمنکر، و ربك غفارلمن استغفر،کل ذٰلك یدعون ان نأتی فی الباب بعدۃ تنبیہات |
تمام معززین کے سردا ر پر،ان کی آل پر،اصحاب پر جو کریم اور معزز ہیں،بھیڑوں کی اون اور بکریوں کے بال برابر۔حمد و صلاۃ کے بعد بلا شبہ بھیڑ بکریوں اور انعام میں شمار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے اور اس کی قربانی جائز ہے۔ یہ مسئلہ خود واضح اور بیان سے بے نیاز ہے۔اس کی قربانی مسلمانوں میں شروع ہی سے متوارث ہے علماء کے تمام گروہ اور مختلف جماعتوں نے اس میں کبھی کوئی اختلاف اورجدال نہیں کیا،تو بلاامتیاز سبھی کو گمراہ او گمراہ گر کہنا سرکشی اور جرم ہے۔اور امر محبوب سے روگردانی،جس کا انجام آئندہ معلوم ہوگا۔اس مسئلہ پر خامہ فرسائی سے چشم پوشی ہی بہتر تھی کیونکہ یقینیات جہاں دلائل کے پر جلتے ہیں،جو ایسی باتوں کا انکار کرے پھر کس بات کااقرار کرے گا اور کس پر ایمان لائے گا،لیکن باطل کو بجھانا اور غافل کو بتانا،کمزور اہل اسلام کو گمراہی سے روکنا،اور یہ خوش گمانی بھی کہ پھسلنے والا سنبھالے سنبھل بھی جاتاہے۔راہ دکھاؤ تو کوئی کوئی دیکھ بھی لیتاہے۔اور واقعی عقلمند وہ ہے جوہر بات پرخواہ مخواہ اصرارنہ کرے،اورحقیقت آشکار ہو تو یاوہ گوئی اور انکار چھوڑ دے تو پروردگار غفور و رحیم ہے۔ان سب باتوں نے ہمیں چند تنبیہات پرمجبور کیا،سبحان اﷲ چمکتے سورج پر کیا حجاب میں تمھیں ہدایت کرتاہوں کہ بیکار امیدوں یا ملال کے چکر،یا طیش |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع