30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الابل [1]۔شرح وقایہ من عینی،قولہ وصح الجذع الی قولہ من الثلثۃ اشارۃ الی بیان الانواع التی لاتجوز الاضحیۃ الابہا،وتصریح بینہا التی لاتجوز فیما دونہ [2]،چلپی علی شرح الوقایۃ،من عینی،وصح الجذع ذوستۃ اشہر من الضان ان کان بحیث لوخلط بالثنایا لایمکن التمییز من بُعد،وصح الثنی فصاعدا من الثلثۃ والثنی ھو ابن خمس من الابل و حولین من البقر والجاموس۔وحول من الشاۃ [3] اھ در مختار من عینی،قولہ من الضان ہو مالہ الیۃ منح، قید بہ لانہ لا یجوز الجذع من المعز وغیرہ بلا خلاف،کما فی المبسوط قہستانی والجذع من البقرا بن سنۃ،ومن الابل ان اربع،بدائع،قولہ من الثلثۃ، ای الاتیۃ وھی الابل۔والبقر،بنوعیہ والشاۃ بنوعیہ [4]رد المحتار من عینی ومن سنن الاسلام التضحیۃ بالانعام التضحیۃ ذبح الاضحیۃ والانعام بالفتح جمع نعم بفتحین |
اورایسی عمروں کا بیان ہے جن کے علاوہ قربانی جائز نہیں، (حاشیہ شرح وقایہ چلپی من عینی) (۳)ضان کا اتنابڑا بچہ جو چھ ماہ کا ہو لیکن دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو(درمختار عینی) ضان جس کے چکتی ہو،یہ چکتی کی قید اس لئے لگائی کہ بکری گائے اور اونٹ کے جذعہ کا استثناء مقصود تھا،بکری کا جذعہ چھ ماہ کا ہوتاہے اور گائے کا سال بھر کا اور اونٹ کا چار سال کا، اور"من الثلاثۃ"کا لفظ جس کا ذکر آگے آرہا ہے یہ اونٹ اور بقر ان دونوں نوعوں کے ساتھ اور اسی طرح اپنی دو نوں قسموں کے ساتھ،(ردالمحتار من عینی) (۴)اور انعام کی قربانی مسنون ہے،انعام چوپایہ کوکہتے ہیں، اضحیہ کے معنی قربانی ہیں،مطلب یہ ہے کہ ضان کا چھ ماہہ بچہ،یا سات ماہہ بچہ کی قربانی مسنون ہے اور ایك سالہ بچہ کی بھی،لیکن اس کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے۔ضان ہو کہ معز،اور اونٹ اور بقر کا ثنی بھی قربانی کے لئے جائز ہے۔ اونٹ کا ثنی پانچ سالہ اور بقر کا دوسالہ اور شاۃ کا ایك سالہ۔ا ور جذعہ کے لئے ضان کی قید اس لئے لگائی کہ بکری چھ ماہہ جائز نہیں،اورضان چکتی والے جانور کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع