30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعلی الحیوان المسئول عنہ ولو سلم ان لفظ میش فی لغۃ الفرس بمعنی ذوات الصوف اعم من ان یکون لہا الیۃ اولا لیشتمل الضاف والحیوان المسئول عنہ فتفسیر اہل الغۃ لفظ الضان بلفظ میش تفسیر بالاعم وھو جائز اذا کان المقصود ھو التیمیز عن بعض ماعداہ [1]۔وذکرہ الفاضل اللاھوری فی بحث خواص الاسم۔ |
ایك اور جواب:اور اگر بطور تنزل ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ اہل لغت کے نزدیك میش کااطلاق اون والے پر ہوتاہے تب بھی ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ اس سے ان کی مراد بھیڑ ہے۔اسکے بیان کے لئے ہم کو تھوڑی تفصیل میں جانا ہوگا۔ کسی چیز کی تعریف اس کے مساوی لفظ سے بھی کی جاتی ہے۔جیسے انسان کی تعریف لفظ ناطق سے کی جائے(کہ جن جن افراد پر انسان دلالت کرتا ہے ناطق بنی اس اس پر دلالت کرتاہے)اور کبھی تعریف کے لئے معرف سے عام لفظ بھی استعمال کیاجاتاہے جیسے السعدانۃ نبت(کہ سعدانہ ایك مخصوص گھاس کا نام ہے)جبکہ نبت ہر گاس کو کہا جاتاہے۔اول الذکر تعریف کامل ہے اور ثانی ناقص،الغرض تعریف دونوں ہی ہے۔ |
اگر معرّف کو بعض امور سے ممتاز کرنا ہے تو عام لفظ سے بھی تعریف جائز ہے [2](فاضل لاہوری بحث خواص اسم)
|
وھہنا کذٰلك اوالمقصود من تفسیرہ بہ تمیزہ عن بعض ماعداہ کالمعز والبقر،فانہما من ذوات الشعر، و لو قیل ان غرضھم من تفسیر الضان بلفظ میش ان الضان ماکان من ذوات الصوف سواء کان لہ الیۃ اولا کما ان میش کذٰلك فبعد التسلیم لایصیر حجۃ علینا لان الحجۃ علینا تفسیر الفقہاء لا تفسیر اھل اللغۃ،ووجب علینا اتباع الفقہاء |
تویہاں بھی ضان کا ترجمہ لفظ میش سے کردیا جس کا مفہوم اون والا۔لیکن اس سے اہل لغت کی غرض ضان میں بھیڑکو شامل کرنے کی نہیں تھی بلکہ دنبہ کو گائے،بھینس اور بکری سے ممتاز کرنا ہے کہ وہ اون والے جانور نہیں،اور دنبہ اون والا جانور ہے۔اور جب ضان کو بھیڑ سے بھی ممتاز کرنا ہوا تو اس کی تعریف چکی والے جانور سے کی۔ جوب الجواب:اگر ہماری بات کایہ جواب دیا جائے کہ اہل لغت کے اطلاق کو یہاں تعریف مساوی سے پھیر کر تعریف عام قرار دینا ایك بے دلیل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع