30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اواناثا فتلك عشرۃ کاملۃ،وحسبت ان الحیوان المذکور و المسئول عنہ لیس داخلا فی الخمسۃ لانہ لو کان داخلہ فیہا لما فسروا الضان بان تکون لہ الیۃ، بل عمموہ بما تکون لہ الیۃ اولا حتی صارت انواع الشاۃ اوالغنم ثلثۃ والکل ستۃ،واذ لیس فلیس فان قیل یدخلون الجاموس فی البقر فما السرفی عدم ادخال الحیوان المسئول عنہ فی الضان مع انہ یؤید ادخالہ فیہ تفسیر اہل اللغۃ لفظ الضان بمیش،کما فی الغیاث [1] وغیرہ،قلت لعلہ ان الجاموس اکمل من البقر فی اللحم والقیمۃ،والحیوان المسئول عنہ ناقص عن الضان فی العضو ای الالیۃ۔فالحاق الاکمل بالکامل اولی من الحاق الناقص بالکامل، و اما تفسیر اھل اللغۃ [2]فمعناہ ان العرب |
(۳)جوموس(بھینس)(۴)ضان(دنبہ)(۵)معز(بکری)اور مذکر ومؤنث دونوں کو شامل کردیا جائے تو کل دس قسمیں ہوتی ہیں: پہلی دلیل:سوال میں ذکر کی ہوئی ہندوستانی بھیڑ اپنی شکل و صورت کے لحاظ سے اگر شامل ہوسکتی ہے تو ضاں(دنبہ) میں اگر اس میں شمار نہ ہوئی تو پھر کسی قسم میں شمار ہونے کا سوال ہے یوں غلب ہے کہ ضان یعنی دنبہ کی تعریف میں یہ قید ہے کہ اس کے الیہ(چکی)ہوتی ہے اور بھیڑ کے چکی نہیں ہوتی ہے،اس لئے ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ بھیڑ قربانی کاجانور ہے ہی نہیں اس لئے اس کی قربان جائز نہیں،اس امرپر قرینہ یہ ہے کہ اگر بھیڑ کو قربانی کے جانور میں شریك کرنا مقصو دہو تا تو دنبہ کی تعریف میں چکی ہونے کی قید نہ لگاتے بلکہ ایسا لفظ بولتے جو بھیڑ اور دنبہ دونوں کو عام ہو،اور ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ مقصد اس نوع کی شریك کرناہی نہیں ہے۔ دوسری دلیل: ایك بات یہ ہے بھی ہے کہ ازروئے شرع غنم یا شاۃ کی دو ہی قسم بنائی گئی ہے۔ضان اور معز اگر بھیڑ کو بھی قربانی کا جانور مان لیا جائے تو ایك کے اضافہ کے بعد غنم کی ۳ قسم ہوجائے گی اور سب کا مجموعہ پانچ کے بجائے چھ ہوجائے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع