30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
شہر میں قربانی اگر چہ ساکن دہِ کی طرف سے وہ روز واول پیش از نماز عید(اور اگر نماز عید کسی عذر سے نہ پڑھیں تو پیش از خروج وقت نماز عید)ناجائز و نامعتبر ہے۔اور بیرون شہر اگر چہ فنائے مصر غیر متصل بمصر ہو،اگر چہ قربانی ساکن شہر کی ہو،پیش نماز بعد طلوع فجر تاریخ دہم جائز ہے۔
|
فی الدرالمختار اول وقتہا بعد الصلٰوۃ ان ذبح فی مصرای بعد اسبق صلٰوۃ ولو قبل الخطبۃ،لکن بعد ھا احب وبعد مضی وقتہا لو لم یصلو اعلیہ العذر، ویجوز فی الغد وبعدہ قبل الصلٰوۃ لان الصلٰوۃ فی الغد تقع قضاء لااداء،زیلعی وغیرہ،و بعد طلوع فجر یوم النحر ان ان ذبح فی غیرہ والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ فحیلۃ مصری ارادان یخرجھا لخارج المصر فیضحی بہا اذ ا طلع الفجر اھ [1]،فی رد المحتار لخارج المصرای الی مایباح فیہ القصر، قہستانی[2] اھ،وفیہ"من باب صلٰوۃ المسافر "یشرط مفارقۃ ماکان من توابع موضع الاقامۃ کربض المصر،وھو ماحول المدینۃ من بیوت و مساکن فانہ فی حکم المصر وکذا القری المتصلۃ بالربض فی الصحیح |
درمختار میں ہے قربانی کا وقت نماز کے بعد ہے اگرشہر میں کرے یعنی نماز پڑھنے کے بعد اگر چہ خطبہ سے قبل ہو،لیکن خطبہ کے بعد مستحب ہے اور اگر عید کی نماز نہ پڑھیں تو نماز کا وقت گزر جانے کے بعد،اور دوسرے اور تیسرے اور تیسرے روز نماز سے قبل کیونکہ دسرے روز عید کی نماز قضاء ہوگی نہ کہ ادا،زیلعی وغیرہ،اور اگر گاؤں میں ذبح کرنی ہو تو عید کے روز صبح طلوع ہونے کے بعد،قربانی میں ذبح کرنے کی جگہ معتبر ہے قربانی کرنے والے کی جگہ معتبرنہیں،تو شہری کے لئے جلدی قربانی کا حیلہ یہ ہے کہ وہ جانور کو شہر سے باہر لے جائے تو فجر طلوع ہونے کے بعد قربانی کرے اھ،رد المحتارمیں ہے:شہر سے باہر اتنی دور لے جائے جہاں سے مسافر کےلئے قصر شروع ہوتی ہے۔قہستانی اور اس کے باب صلٰوۃ المسافر میں ہے کہ قصر جائز ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے شہر کے توابع سے نکل جائے شہر کے توابع کی مثال ڈیرے وغیرہ اور وہ شہر کے ارد گرد کے مکانات ہیں،اور شہر سے متعلق رہائش گاہیں شہر کے حکم میں ہیں،او ر یوں وہ دیہات جو شہر کے باڑوں سے متصل ہوں صحیح قول میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع