30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشراء حال الشرکۃ لو من جنس تجارتہما فہو للشرکۃ،وان اشہد عند الشراء انہ لنفسہ لانہ فی النصف بمنزلۃ الوکیل بشراء شیئ معین وان لم یکن من تجارتہما فہولہ خاصۃ [1]۔ |
اگر جنس تجارت کو شرکت کے مال سے خریدا تو وہ شرکت کی ہوگی اگر چہ وہ خریداری کے وقت اپنی ذاتی ہونے پر بھی گواہ بنالےکیونکہ وہ معین چیز کی خریداری میں نصف کا وکیل ہے۔ ہاں اگر وہ چیز جنس تجارت میں سے نہ ہو تو اس کی ذاتی ہوگی۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
اذا اذن احدا المتفاوضین لصاحبہ ان یشتری جاریۃ فیطأہا ففعل فہی لہ بغیر شیئ لان الجاریۃ دخلت فی الشرکۃ علی البتات جریا علی مقتضی الشرکۃ،اذھما لایملکان تغییرہ فاشبہ حال عدم الاذن،غیر ان الاذن یتضمن ھبۃ نصیبہ منہ لان الوطئ لا یحل الا بالمالک،ولاوجہ الی اثباتہ بالبیع(ای انہ ھلك بالشراء)لما بینا انہ یخالف مقتضی الشرکۃ فاثبتناہ بالہبۃ الثابتہ فی ضمن الاذن [2]اھ مختصرا بزیادۃ مابین الہلالین للایضاح۔ |
جب شرکت مفاوضہ کے ایك شریك نے دوسرے کو لونڈی خرید کر وطی کی اجازت دے دی ہو اور اس نے ایسے کرلیا تو وہ لونڈی بلا عوض اس کی ہوجائے گی کیونکہ وہ لونڈی شرکت میں ہے۔شرکت کا مقتضی یہی ہے کیونکہ عقد شرکت کے بعد دونوں میں سے کوئی اس کو متغیر نہیں کرسکتا لہذا وہ وطی گویا کہ بلااذن متصور ہوئی مگر اجازت دینا اپنے حصے کو ہبہ کردینے کو متضمن ہے کیونکہ وطی مستقل ملکیت کے بغیر حلال نہیں ہوتی اور اس ملکیت کو بیع کی طرف منسوب کرنا یعنی یہ کہنا وطی کرنے والا خریدنے سے مالك ہوگیا درست نہیں کیونکہ یہ مقتضی شرکت کے منافی ہے تو ہم نے ملکیت کو اس ہبہ سے ثابت کیا ہے جو اذن کے ضمن میں پایا گیا اھ مختصرًا۔اور وضاحت کےلئے ہلالین میں درج شدہ عبارت کا اضافہ کیا ہے۔(ت) |
یہ لوگ جنھوں نے قربانی ناجائز ہونے کا فتوٰی دیا اور لوگوں سے قربانیاں چھڑادیں فقہ سے بے بہرہ معلوم ہوتے ہیں اور جو ایسا ہواسے فتوی دینا حرام ہے۔نسأل اﷲ العفو والعافیۃ و حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع