30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال لمدیونہ اوکفیلہ اذا ادیت الی کذا،اومتی ادیت، اوان ادیت الی خمس مائۃ فانت بری عن الباقی فہو باطل ولا ابراء[1]۔ |
اور اپنے مدیون یا کفیل کو کہا اگر تو مجھے اتنے یا جب ادا کرے،یا یوں کہا اگر تو مجھے پانسو ادا کرے تو باقی سے بری ہے۔تو یہ باطل ہے کوئی برائت نہ ہوئی،(ت) |
ہندیہ میں قنیہ سے ہے:
|
قال ائمۃ بلخ التحلیل یقع علی ماھو واجب فی الذمۃ لا علی عین قائم [2]۔ |
بلخ کے ائمہ نے فرمایا جو ذمہ میں واجب ہواس سے برائت ہوتی ہے نہ کہ عین موجود مال سے(ت) |
مگر اس سے جانور میں شرکاء کی ملك نہیں ہوتی،خیریہ میں ہے :
|
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المشتری للاب [3]۔ |
باپ کے مال کے ساتھ خریداری کرنے سے یہ لازم نہیں اتا کہ خرید کردہ چیزباپ کی ہوجائے(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
مااشتراہ احدھما لنفسہ یکون لہ و یضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترك [4]۔ |
ان میں سے کسی نے چیز کو اپنے لئے خریدا تو اسی کی ہوگیہ اور وہ اپنے شرکاء کے حصے کا ضامن ہوگا اگر خریداری میں مشترکہ مال دیا ہو(ت) |
اور تین صورتوں میں اگر چہ جانور سب شرکاء کی ملك مشترك ٹھہرے گا مگر جبکہ وہ سب اسے اذن دے چکے کہ خاص اپنی طرف سے قربانی کردے،اور یہ ناممکن ہے بے اس کے کہ جانور خاص اس کی ملك ٹھہرے،تو ان کایہ اذن جانور میں سے اپنا اپنا حصہ اس کو ہبہ کرنا ہوگا،اور جانور قابل قسمت نہیں جو شیئ ناقابل قسمت ہو اس میں ہبہ مشاع صحیح ہے،تو تنہا یہی اس جانور کا ملك ہوگیا،اور قربانی اس کی بلاد غدغہ صحیح ہوگئی اور اب اس پر ثمن میں حصہ شرکاء کا بھی تاوان نہیں آسکتا،محیط پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع