30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذا الاخیر لان الفرض انہ اشتری بدراہم الشرکۃ۔ |
کے بعد اھ،میں کہتاہوں،میں آخر صورت کو ذکر نہ کروں گا کیونکہ یہاں مشترکہ دراہم سے خریدنا مفروض ہے۔(ت) |
غایت یہ کہ ثمن جو مال شرکت سے ادا کیا ہے اس میں حصہ دیگر شرکاء کا اسے تاوان دینا ہوگا جبکہ شرکاء نے قیمت خریداری ثمن میں اپنے اپنے حصہ اسے ہبہ کئے ہوں کہ شیئ قابل قسمت میں ہبہ صحیح نہیں یا قبل شراء اپنے حصوں سے ابراء کیا ہو کہ ابراء یعنی معافی دین سے ہوتی ہے یہاں ابھی دین نہیں،یا ابراء معلق کیاہو،یعنی جب تو اپنے لئے شرکت کے مال سے خریدے تو ہم نے تجھے اپنے حصے معاف کئے کہ ابراء صالح تعلیق نہیں،عالمگیریہ میں ہے:
|
احدالمشرکین اذا قال لشریکہ،وھبت لك حصتی من الربح قالو ان کان المال قائما لا تصح لکونہا ہبۃ المشاع فیما یقسم،وان کان الشریك استھلك المال صحت الہبۃ لکونہا اسقاطا حینئذ کذا فی الظہیریۃ[1]. |
دونوں شریکوں میں سے ایك نے دوسرے کو کہا میں نے اپنے حصے کا نفع تجھے ہبہ کردیا تو فقہاء نے فرمایا اگر نقد مال موجود ہو تو یہ ہبہ درست نہ ہوگا کیونکہ قابل تقسیم چیز کا مشاعی حصہ ہے اوراگر شریك نے مال کو ہلاك کردیا ہو تو ہبہ صحیح ہوگا کیونکہ اس صورت میں ہبہ کا مطلب حصہ کو ساقط کرنا ہے۔ظہیریہ میں یوں ہے۔(ت) |
عینی پھر بحرالرائق پھر ردالمحتارمیں ہے:
|
انہ ای الابراء تملیك من وجہ حتی یرتد بالرد،وان کان فیہ معنی الاسقاط فیکون معتبرا بالتملیکات فلا یجوز تعلیقہ بالشرط [2]۔ |
کسی کو بری کرنا من وجہ تملیك ہے حتی کہ رد کردینے سے ابراء ہوجاتاہے اگر چہ اس میں اسقاط کا معنی ہے۔لہذا تملیکات میں معتبر ہوگا اس لئے شرکا کے ساتھ اس کی تعلیق جائز نہیں۔(ت) |
ایضاح الکرمانی پھر عزمیہ پھر شامیہ میں ہے:
|
قال ان دخلت الدارفقد ابرأتك |
اگرکہا تو گھر میں داخل ہوجائے تو میں نے تجھے بری کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع