30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا شرکت ملک،بیان اس کا یہ کہ یہاں پانچ صورتیں ہیں:
۱ایك شرکت ملك کی اور چار شرکت عقد کی،کہ ۲شرکت مفاوضہ ہو یا ۳شرکت عنان،مطلق ہے خریدوفروخت میں،جیسے یہ کہیں کہ جو کچھ ہم خریدیں وہ ہمارے آپس میں مشترك ہے۔یا ۴شرکت جن خاص اجناس میں قرار پائی ہے یہ جانور کہ اسے قربانی کو خریدا ان اجناس سے ہے۔۵اخیر صورت یہ ہے کہ یہ شرکت خاص ہے،اور جانور اس کی جنس تجارت سے نہیں، اول و اخیر یعنی شرکت ملك و شکل اخیر میں تو ظاہر ہے کہ یہ جانور خاص اس خریدنے والے کی ملك ہوگا۔
|
لان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ کما فی الاشباہ [1] وغیرھا،بل قال فی الدر وغیرہ لو اشترٰی لغیرہ نفذ علیہ [2]الخ قال الشامی لانہ اذا لم یکن وکیلا بالشراء وقع الملك لہ فلا اعتبار بالاجازۃ بعد ذٰلك لانہا انما تلحق الموقوف لا النافذ [3]۔ |
کیونکہ خریداری جب مشتری پر بطور نفاذ پائی نجائے تو نافذ ہوجائیگی،جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔بلکہ درمختاروغیرہ میں کہا اگر غیر کے لئے خریدی تو خود اس پر نافذ ہوگی الخ، شامی میں فرمایا کیونکہ غیر کا وکیل خریداری میں یہ نہیں ہے تو اس کی ملکیت قرار پائی گی تو اس کے بعد کی اجازت معتبر نہ ہوگی کیونکہ بعد کی اجازت موقوف بیع کا لاحق ہوسکتی ہے نافذ کو نہیں لاحق ہوسکتی۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
شریك العنان لہ ان یشتری مالیس من جنس تجارتہا ویقع الشراء لہ ویطالب بالثمن وکذا یقع الشراء لہ من جنس تجارتہما بعد ماصار المال عروضا [4] اھ قلت و لم اذکر |
شرکت عنان میں شریك کواختیار ہے کہ وہ مسلمہ تجارت کے غیر کو خریدے جبکہ خریداری شریك کی اپنی ہوگی اور بائع اس سے ثمن کا مطالبہ کرے گا اوریونہی جب ان کی مسلمہ تجارت کی جنس کو خریدے نقد مال کے سامان بن جانے |
[1] الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۲۳،فتاوی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب البیوع الفضل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۱۹،ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۰
[2] درمختار کتاب البیوع فضل الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳
[3] ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۷
[4] ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع