30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عیالہ سنۃ یحل لہ اخذالزکوٰۃ وان کانت قیمتہ تبلغ الوفاء وعلیہ الفتوی وعندھما لا یحل [1]۔ |
اس کے عیال کے سال بھر کے نفقہ کے لئے کافی نہیں اس کو زکوٰۃ حلال ہے اگر چہ ان کی قیمت کفایت کو پہنچی ہو،اور اسی پر فتوٰی ہے اور شیخین کے نزدیك حلال نہیں۔(ت) |
درمختار کے صدقہ فطر میں ہے:
|
تجب علی کل مسلم ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ وان لم ینم،وبہذا النصاب تحرم الصدقۃ، وتجب الاضحیۃ ونفقۃ المحارم علی الراجح [2]اھ قلت فالذی لہ ارض قیمتہا الوف کما وصف لو کان تجب علیہ الاضحیۃ لحرمت علیہ الزکوٰۃ لکنہا لم تحرم فالاضحیۃ لم تجب،واﷲتعالٰی اعلم۔ |
ہر مالك نصاب مسلمان پر کہ اس کی اصل حاجت سے زائد ہو اگر چہ یہ نصاب نامی نہ ہو تو راجح قول پر محارم کا نفقہ اور قربانی واجب ہے اور اس نصاب سے زکوٰۃ لینا حرام ہوجاتاہے،میں کہتاہوں جس کے پاس زمین ہے جس کی قیمت ہزاروں ہے جیسے بیان کیا گیا ہے اگر اس پر قربانی واجب ہے تو اس کو زکوٰۃ لینا حرام ہے لیکن زکوٰۃ حرام نہیں،لہذا قربانی واجب نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۹۳:از سرکار مارہرہ شریف مرسلہ حضور سیدنا سید مہدی حسن میاں صاحب سجادہ اقدس دامت برکاتہم ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
اعلیٰحضرت محترم خادمانہ عرض ہے۔فقیر رضوی کی عمر گیارہ سال کچھ ماہ کی ہے۔زیور اس کے پاس غالبا ساٹھ روپے کا ہے۔بالغ نہیں ہے۔قربانی اس کے ذمہ واجب ہپے یا نہیں؟ پیر برکات عمر سترہ سالہ خلف بھائی جان مرحوم بے ماں باپ کا ہے لیکن اس کی والدہ کا زیور وظروف مسی وپار چہائے پوشیدنی ہیں جو بغضب ایك شخص کے پاس ہیں جن کے ملنے کی کسی قسم کی امید اس کو کسی زمانہ میں نہیں وہ مالك ووارث ان چیزوں کا ضرور ہے مگر اس کے قبضہ سے قطعی باہر ہیں اور صحیح طور سے یہ بھی نہیں معلوم کہ ان چیزوں کا وجود ہے یانہیں۔اس کے ذمہ قربانی ہے یانہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع