30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بمارأیت ولا تلازم بین حل الصدقۃ و سقوط الواجبات المالیۃ،حتی صرح العلماء ان من لہ نصاب سائمۃ لا تساوی مائتی درھم تحل لہ الزکوٰۃ وتلزم الزکوٰۃ،فی ردالمحتار عن الشرنبلالیۃ عن الجوھرۃ عن الامام المرغینانی اذا کان لہ خمس من الابل قیمتہا اقل من مائتی درھم تحل لہ الزکوٰۃ وتجب علیہ[1] اھ وتمامہ تحریرہ فیہ ولا شك ان الزکوٰۃ اضیق وجوبا من صدقۃ الفطر والا ضحیۃ فلا غرو ان وجبتا علی صاحب الضیاع والمستغلات لمبلکہ نصابا فاضلا،وحلت لہ الصدقۃ لعدم کفایۃالغلۃ لہ و لعیالہ معایبقی خلاف مفہوم ما افادہ فی التنویر ولا حرج فیہ بعد ماجاءت من العلماء تلك النصوص بالتکثیر،واﷲ تعالٰی اعلم۔
|
کے لئے مانع نہیں،جیسا کہ تم نے دیکھا،جبکہ زکوٰۃ کے حلال ہونے اور واجبات مالیہ کے ساقط ہونے میں تلازم نہیں ہے حتی کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ جس کے پاس سائمہ جانوروں کا نصاب موجود ہو اور ان جانوروں کی قیمت دو سو درہم کے مساوی نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ لینا حلال ہے اس کے باوجود جانوروں کی زکوٰۃ اس پر واجب ہے،اور ردالمحتار میں شرنبلالی بحوالہ جواہر امام مرغینانی سے منقول ہے کہ اگر کسی کے پاس پانچ اونٹ ہوں جن کی قیمت دو سو درہم سے کم ہو اس کو زکوٰۃ حلال ہے باوجود یہ کہ اس پر اونٹوں کی زکوٰۃ واجب ہے اھ اور ا س مکمل بحث وہاں موجود ہے اور اس میں شك نہیں کہ زکوٰۃ کا وجوب صدقہ فطر اور قربانی کے وجوب سے کڑاہے تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ صدقہ فطر اور قربانی زمین وغیرہ کی آمدن والے پر واجب ہوں جبکہ وہ آمدن اصل حاجت سے زائد نصاب برابر اور ساتھ ہی اس کو زکوٰۃ لینا حلال بھی ہو کیونکہ زمین کی آمدن اس کو اور اس کے عیال کو کافی نہ ہو،ہاں تنویر کے مفاد مفہوم کا خلاف باقی رہا تو اس میں علماء کی کثیر نصوص آجانے کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۹۲: مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب از بانکی پو ر پٹنہ ۲۳ صفر ۱۳۳۲ھ
ایك شخص برائے نام صاحب جائدا د ہے۔سو روپیہ سالانہ آمدن کی جائداد ہے۔وہ شخص(ہہ۔للعہ)ماہوار کا نوکر بھی ہے۔جو اس کی ضروریات دنیویہ کو کافی ہے۔کسی سال میں کچھ نہیں بچتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع