30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھکذا انقل الکلام عنہا برمزہ"خ"فی خزانۃ المفتین وکذٰلك ذکر فی البزازیۃ اقوال المتاخرین کالزاعفرانی والدقاق وغیرھما مقدما قول الزعفرانی ان العبرۃ بالقیمۃ ثم قال وعند الثانی رحمہ اﷲ ھو موسر بالضیاع۔[1]اھ وفی الہندیۃ عن الخلاصہ عن الاجناس لو کان لہ دار فیہا بیتان شتوی وصیفی و فرش شتوی وصیفی،لم یکن بہا غنیا فان کان لہ فیہا ثلث بیوت و فیمۃ الثالث مائتا درھم فعلیہ الاضحیۃ [2] الخ،ومثلہ فی البزازیۃ [3] وقال قبلہ لو کان فی داراجارۃ فاشتری ارضا بنصاب وبنی فیہا منزلا یسکنہ لزمت [4] اھ،وبالجملۃ قد تظافرت الروایات علی الایجاب وھو الموافق لاطلاق المتون والشروح من قولہم کما فی الہدایۃ وغیرھا واجبۃ علی الحر المسلم،اذا کان مالکا لمقدار النصاب فاضلا عن
|
اور خزانۃ المفتین میں خانیہ کی اس کلام کو اس کی رمز"خ"کے ساتھ ذکر کیا اور یوں ہی بزازیہ نے متاخرین کے اقوال کو ذکر کیا اور زعفرانی کے قول کو دوسروں پر مقد کیا کہ قیمت کا اعتبار ہے اور پھر کہا کہ امام ثانی(امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی)کے نزدیك زمینوں کی وجہ سے غنی قرار پائے گا اھ،اور ہندیہ میں خلاصہ سے بحوالہ اجناس ذکر کیا کہ اگر مکان میں دو کمرے ہوں موسم سرما اور دوسرا موسم گرما کے لئے ہو اور سردی اور گرمی کے بستر ہوں تو اس سے غنی شمار نہ ہوگا،اور اگر مکان کے تین کمرے ہوں اور تیسرے کی قیمت دو سو درہم ہو تو اس پر قرانی لازم ہوگی الخ اور ا س کی مثل بزازیہ میں مذکور ہے انھوں نے اس سے قبل ذکر کیا اگر کوئی کرایہ کے مکان میں ہو تو اس نے نصاب برابر قیمت سے زمین خرید کر مکان بنایا اور اس میں رہائش پذیرہوا تو اس پر قربانی لازم ہے اھ،خلاصہ یہ کہ اس پر قربانی کوواجب کرنے والی روایات کثیرہ متفق ہیں اور یہی متون اور شروح کے اطلاق کے موافق ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہ کا قول ہے کہ آزاد مسلمان جب اپنی رہائش لباس، ضروری سامان |
[1] فتاوٰی بزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۶۸۷
[2] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۳
[3] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۸۷
[4] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۸۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع