30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المتاخرون رحمہم اﷲ تعالٰی فالزعفرانی و الفقیہ علی الرازی اعتبرقیمتہا وابوعلی الدقاق وغیرہ اعتبرا الدخل۔واختلفوا فیما بینہم،قال ابوعلی الدقاق ان کان یدخل لہ من ذٰلك قوت سنۃ فعلیہ الاضحیۃ ومنہم من قال قوت شہر،ومتی فضل من ذٰلك قدر مائتی درھم فصاعدا فعلیہ الاضحیۃ[1] الخ ونحوہ فی ردالمحتار ولم یذکر ترجیحا ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ،اقول:بہ جزم فی الخانیۃ من صدقۃ الفطر ولم یحك خلافا حیث قال وما زاد علی الدار الواحدۃ والد ستجات الثلثۃ من الثیاب یعتبر فی الغناء[2]اھ ثم قال واذ اکان لہ دار لا یسکنہا ویؤاجرھا اولا یؤاجرھا یعتبر قیمتھا فی الغناء وکذا اذا اسکنہا و فضل عن سکناہ شیئ،یعتبر فیہ قیمۃ الفاضل فی النصاب ویتعلق بہذا النصاب احکام وجوب صدقۃ الفطر والاضحیۃ وحرمۃ وضع الزکاۃ فیہ ووجوب نفقۃ الاقارب [3] اھ |
اختلاف کیا ہے۔تو زعفرانی اور فقیہ علی رازی نے ان کی قیمت کا اعتبار کیا اور ابوعلی الدقاق وغیرہ نے ان کی آمدن کا اعتبار کیا ہے اور پھر آمدن کے اعتبار والوں کا آپس میں اختلا ف ہوا،ابو علی الدقاق نے کہا اگر سال بھر کی آمدن حاصل ہوجائے تو قربانی واجب ہے اور ان میں سے بعض نے مہینے کا قول کیا ہے آمدن میں سے سال بھر میں دو سو درہم فاضل بچ جائیں یا اس سے زائد تو اس پر قربانی واجب ہے الخ اور ردالمحتار میں اسی کی مثل مذکور ہے اور انھوں نے ترجیح کو ذکر نہ کیا،مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں یوں لکھا ہے۔عبارت یہ ہے،اقول(میں کہتاہوں)خانیہ میں اس پر جز فطرانہ کے متعلق کیا ہے اور انھوں نے اختلاف کو ذکر نہ کیا،جہاں انھوں نے فرمایا،جو ایك مکان اور تین جوڑے لباس سے زائد ہوں وہ غناء میں شمار ہوگا اھ،پھر فرمایا اگر اس کا مکان ہو جس میں رہائش پذیر نہیں اس کو کرایہ پر دیا ہو یا نہ دیا ہو تو اس کی قیمت کے اعتبار سے غناء میں شمار ہوگا،اور یوں اگر مکان میں رہائش پذیر ہو اور رہائش سے کچھ کمرے زائد ہوں تو زائد کی قیمت کو نصاب میں شمار کیا جائے گا اور اس نصاب سے صدقہ فطر اور قربانی زکوٰۃ لینے کی حرمت اقارب کا نفقہ کے احکام متعلق ہوجائیں گے اھ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع