30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
پس از بواقی ساقط شودیا بمقدار آں مرفقراء و مساکین راصدقہ کنند شرعا چہ حکم است۔بینوا بسنۃ الکتاب توجروا من الملك الوھاب۔ |
قربانی کاوقت ختم ہوگیا تو کیا باقی حضرات کی قربانی ساقط ہوجائے گی یا وہ حضرات کی مالیت کو فقراء ومساکین پر صدقہ کریں،شرعا کیا حکم ہے؟ بتاؤ اور اجر اپنے عطا کرنے والے مالك سے پاؤ۔(ت) |
الجواب:
|
از شہ باقی ساقط نشود فان الاضحیۃ واجبۃ عینا لا کفایۃ، وچوں وقت گزشتہ است واجب است کہ ہر ایك ازیں سہ کساں قیمت گوسپندے کہ دراضحیہ کافی شود،برفقرا صدقہ کند فی الدر لمختار ترکت التضحیۃ ومضت ایامہا تصدق غنی بقیمۃ شاۃ تجزئ فیہا [1]اھ ملتقطا۔واﷲ سبحانہ و تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
باقی تین سے قربانی ساقط نہ ہوگی کیونکہ واجب عینی ہے واجب کفایہ نہیں ہے جب وقت گزر گیا تو ان کو چاہئے کہ وہ بکرے کی قیمت فقراء پر صدقہ کریں،درمختار میں ہے کہ قربانی چھوٹ گئی ہو تو وقت ہوجانے پر غنی شخص بکرے کی قیمت صدقہ کردے تو اس سے کفایت حاصل ہوجائے گی اھ ملتقطا واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت) |
مسئلہ ۱۹۱: ۲ ۱ ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زید کے پاس مکان سکونت کے علاوہ دو ایك اور ہوں تو اس پر قربانی واجب ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
واجب ہے جبکہ وہ مکان تنہا یا اس کے اور مال سے کہ حاجت اصلیہ سے زائد ہومل کر چھپن روپے کی قیمت کو پہنچیں،اگر چہ مکانوں کو کرایہ پر چلاتاہو یا خالی پڑے ہوں یا سادی زمین ہوبلکہ مکان سکونت اتنا بڑا ہے کہ اس کا ایك اس کے جاڑے گرمی کی سکونت کے لئے کافی ہو اور دوسرا حصہ حاجت سے زائد ہو اور اس کی قیمت تنہا یا اسی قسم کے مال سے مل کر نصاب تك پہنچے جب بھی قربانی واجب ہے۔اسی طرح صدقہ بھی۔
|
فی الہندیۃ عن الظہیریۃ ان کان لہ عقار ومستغلات ملك اختلف المشائخ |
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے کہ زمین اور آمدن والی ملکیت ہو تو متاخرین فقہاء رحمہم اﷲ تعالٰی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع