30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پورے کرنے پر بنائے کارہوئی تھی تو شنبہ کی عید بھی ایك احتمال رکھتی تھی،ایسی حالت میں فی التاخیر اٰفات پر نظر کرکے سہ شنبہ تك بیٹھا رہنا نہ چاہتے تھا،علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بحالت احتمال مستحب ہے بارھویں تك دیر نہ لگائے اور دیر ہوجائے تو مستحب ہے کہ اس قربانی سے کچھ اپنے یا اپنے اغنیاء کے صرف میں نہ لائے بلکہ بالکل را ہ خدا میں اٹھائے۔ شرح نقایہ قہستانی میں ہے:
|
لوشك فی یوم الاضحی فاجب ان لا یوخر الی الیوم الثلث والافاحب ان یتصدق کلہ [1]۔ |
اگر قربانی کے دن میں شك ہو تو تیسرے دن تك مؤخر نہ کی جائے ورنہ تمام گوشت کو صدقہ کرنے مجھے پسند ہے۔(ت) |
باایں ہمہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی قربانی قضاء ہوگئی،البتہ افضل یہ ہے کہ جس قدر گوشت وغیرہ اپنے یا اور اغنیاء کے صرف میں آگیا ہو اس کی قیمت لگاکر صدقہ کریں،اور نیز جانور مذبوح وزندہ میں بوجہ ذبح جو تفاوت قیمت ہوگیا وہ بھی خیرات کریں،مثلا زندہ ایك روپیہ کو آیا تھا اور ذبح کیا ہوا بارہ آنے کو جاتا تو چار آنے اور تصدق کئے جائیں، عالمگیری میں ہے:
|
اذا شك فی یوم الاضحی فالمستحب ان لایؤخر الی الیوم الثالث فان اخر یستحب ان لا یاکل منہ و یتصدق بالکل فیتصدق بفضل مابین المذبوح و غیر المذبوح لانہ لو وقع فی غیر وقتہ لا یخرج عن العہدۃ الا بذٰلك کذا فی المحیط السرخسی [2]۔ |
اگر قربانی کے دن میں شك ہو تو مستحب یہ ہے کہ تیسرے روز تك مؤخر نہ کی جائے اور مؤخر ہوجائے تو پھر مستحب یہ ہے کہ تمام گوشت صدقہ کیا جائے اور خود کچھ نہ کھائے اور مذبوح اور غیر مذبوح میں قیمت کے فرق زائد کو صدقہ کرے کیونکہ اگر قربانی اپنے فروخت سے باہر ہو تو اس کے بغیر عہدہ برآہ نہیں ہوتا یوں محیط سرخسی میں ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
فان اکل تصدق بقیمۃ ما اکل [3]اھ ذکرہ فی الناذر، و افادالشامی ان النذر |
اگرکھالیا تو جنتا کھایا اس کی قیمت کو صدقہ کرے اھ انھو ں نے یہ نذر ماننے والے کو فرمایا اس پر علامہ شامی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع