30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے۔فعل مستحب کے لئے گناہ نہیں کرسکتا۔
|
فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ وفی المضمرات،عن ابن المبارك فی تقلیم الاظفار وحلق الرأس فی عشر ذی الحجۃ،قال لا تؤخرالسنۃ،وقد ورد ذٰلك ولایجب التاخیر اھ فہذا محمول علی الندب بالاجماع الا ان نفی الوجوب لا ینافی الاستحباب فیکون مستحبا الا ان استلزم الزیادۃ علی وقت اباحۃ التاخیر،ونہایتہ مادون الاربعین،فلا یباح فوقہا،[1]اھ مختصرا، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ردالمحتارمیں ہےکہ منیہ کی شرح اور مضمرات میں ابن مبارك سے نقل کیا کہ ناخن کاٹنا اور سر منڈانا ذوالحجہ کے دس دنوں میں اپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ سنت کو مؤخر نہ کیاجائے جبکہ اس کے متعلق حکم واردہے تاہم تاخیر واجب نہیں ہے اھ تویہ استحباب پر محمول ہے اور وجوب کی نفی استحباب کے منافی نہیں ہے لہذا مستحب ہے ہاں اگر اباحت کی مدت پر تاخیر کو مستلزم ہو تو مستحب نہ ہوگا،اباحت کی مدت کی انتہا چالیس روز ہے تو اس سے زیادہ تاخیر مباح نہ ہوگی اھ مختصرًا واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۸۷:مرسلہ ڈاکٹر واعظ الحق سعد اﷲ پوری ڈاکخانہ خسرو پور ضلع پٹنہ بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۵ ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ
قربانی ایام تشریق تك جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
قربانی یوم نحر تك یعنی دسویں سے بارھویں تك جائز ہے،آخر ایام تشریق تك کہ تیرھویں ہےجائز نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: مرسلہ مولوی حاجی الہ یار خاں صاحب تاجر کتب ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
رامپور میں عیداضحی شنبہ کے دن ہوئی اور بریلی میں ایك شنبہ کو،اب درصورت عدم اطلاع کے جن لوگوں نے سہ شنبہ کو قربانی کی،اور بعد میں اس کے مطلع ہوئے،ان لوگوں کی قربانی درست ہوئی یا نہیں؟ اب ان پر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع