30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شرط بالنص وہی بالقصد وصحۃ القصد بما ذکر نا یعنی قولہ اذا کان یعقل التسمیۃ والذبیحۃ ویضبط [1]اھ ش۔ |
قصد اور نیت کا اہل نہیں ہے کیونکہ بسم الله پڑھنا منصوص شرط ہے اور وہ قصد کے بغیر ممکن نہیں اور قصد کی صحت ہمارے ذکر کردہ سے ہوتی ہے یعنی اس کا قول کہ وہ بسم الله اور ذبح اور ضبط کو سمجھتاہو،اھ ش۔(ت) |
ان سب شرائط کے ساتھ جس خرگوش کو کتے نے مارا مطلقًا حلال ہے اور اگر ہنوز مذبوح سے زیادہ زندگی باقی ہے تو بعد ذبح حلال ہے۔اس کے دانت جسم میں پیوست ہوجانا وجہ ممانعت نہیں ہوسکتا،قرآن عظیم نے اس کا شکار حلال فرمایا اور شکار بے زخمی کئے نہ ہوگا اور زخمی جبھی ہوگا کہ اس کے دانت اس کے جسم کو شق کرکے اندر داخل ہوں اور یہ خیال کہ اس صورت میں اس کا لعاب کہ ناپاك ہے بدن کو نجس کردے گا،دو وجہ سے غلط ہے۔
اوّلًا: شکار حالت غضب میں ہوتاہے اور غضب کے وقت اس کا لعاب خشك ہوجاتاہے۔
|
ولذافرق جمع من العلماء فی اخذہ طرف الثوب ملا طفا فینجس او غضبان فلا۔ |
اس لئے علماء کی ایك جماعت نے کتے کے پاك کپڑے کو پیار سے منہ میں لینے اور غصہ کی حالت میں لینے میں فرق کیا ہے کہ جانور پیار سے منہ میں لے تو ناپاك اور غصہ میں لے تو پاك ہے۔(ت) |
ثانیًا: اگر لعاب لگا بھی تو آخر جسم سے خون بھی نکلے گا،وہ کب پاك ہے جب اس سے طہارت حاصل ہوگی اس سے بھی ہوجائے گی،والله تعالٰی اعلم۔
__________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع