30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعمل اٰخر،وخمسۃ فی الکلب ان یکون معلما وان یذھب علی سنن الارسال،وان لا یشارکہ فی الاخذ ما لایحل صیدہ وان یقتلہ جرحا،وان لایاکل منہ و خمسۃ فی الصید،ان لا یکون من بنات الماء الا السمك وان یمنع نفسہ بجناحیہ اوقوائمہ وان لا یکون متقویا بنابہ،او بمخلبہ،وان یموت بہذا قبل ان یصل الی ذبحہ [1] اھ،قلت ومعنی قولہ ان یموت ای حقیقۃ اوحکما بان لایبقی فیہ حیاۃ فوق المذبوح، کما نص علیہ فی الدر،واوضحہ المحشی۔ |
درمیاں میں کسی اور عمل میں مصرو نہ ہو، اور پانچ شرطیں کتے میں پائی جائیں (۱)سکھایا ہو اہو۔(۲)سیدھا شکار کی طرف جائے (۳)کتے سے شکار کو وصول کرنیوالا ایسا شخص نہ ہو جس کا شکار حلال نہیں ہوتا (۴)شکار کو کتا زخمی کرکے مارے (۵)اور خود شکار کو نہ کھائے۔اور پانچ شرطیں شکار میں پائی جائیں (۱)پانی میں پیدا ہونے والا شکار صرف مچھلی ہو۔(۲)وہ بھاگ کر ایا اڑکر اپنا دفاع کرسکے (۳ و ۴)کیلی دانت یا پنچوں والا نہ ہو۔(۵)ذبح تك رسائی سے قبل مرجائے اھ میں کہتاہوں اس کا کہنا کہ مرجائے،یعنی حقیقۃ مرجائے یا حکما مرجائے مذبوح سے زائد اس میں حیات نہ ہو، جیساکہ درمختارمیں تصریح ہے،اور محشی نے اس کو واضح کیا ہے۔(ت) |
انھیں میں ہے:
|
شرط کون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم ان کان صیدا،فصید الحرم لا تحلہ الذکاۃ مطلقًا (اوکتابیا، ولو مجنونا[2])اھ ملخصا۔والمراد بہ المعتوہ کما فی العنایۃ عن النہایۃ لان المجنون لا قصد لہ ولا نیۃ لان التسمیۃ |
ذبح کرنے والے کے لئے مسلمان جو حالت احرام اور حرم میں نہ ہو۔شرط ہے،اور شکار ہو تو ضروری ہے کہ حرم سے باہر ہو کیونکہ حرم کا شکار ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوتا مطلقًا ذبح کرنے والا اہل کتاب میں سےہو اگر چہ ذبح کرنے والا مجنون ہو اھ ملخصا۔مجنون سے مراد معتوہ (ابتدائی جنون)ہو جیسا کہ عنایہ میں نہایہ سے نقل کیا ہے کیونکہ کامل جنون والا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع