30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان لاشیئ من ذٰلك فی الحبات الا تری الی ماقال فی الدرالمختار لو کانت یعنی البندقۃ خفیفہ بہا حدۃ حل [1]حیث لم یقتصر علی الخفۃ زاد بہا حدۃ۔ولابد من قید اٰخر ترکہ وصرحۃ بہ وھو من تصیبہ بحدھا کما مر عن الا مام فقیہ النسف۔وھی مسئلۃ المعراض الشہیرۃ فی الکتب،فالصواب اطلاق المنع، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
دھار دار اور چیرنا ہے اور یہ چیز چھروں یعنی دانوں میں بدیہی طور پر نہیں پائی جاتی،آپ دیکھ نہیں رہے جو درمختار میں فرمایا کہ باریك گولی کی دھار ہو تو حلال ہے یہاں انھوں نے صرف خفت پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ دھار کو زائد ذکر کیا اور ایك اور قید بھی ضروری جس کو واضح ہونے کی وجہ سے ذکر نہ کیا وہ یہ کہ دھار لگنے سے زخمی ہو جیسا کہ اما م فقیہ النفس (قاضی خاں)کا کلام گزرا،اور کتب میں معراض کے عنوان سے یہ مسئلہ مشہور ہے تویہی درست ہے کہ گولی کا شکار مطلقًا منع ہے والله سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت) |
مسئلہ ۱۷۴:از کراچی بندر محلہ جمعدار گل محمدمکرانی مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب مکرانی ۳۵ شعبان ۱۳۱۱ھ
|
چہ می فرمایند علمائے کرام رحمکم ربکم اندریں مسئلہ کہ اگر شخصے شکار بہ تفنگ یعنی بندوق کرد،وبذریعہ بندقہ رصاص یعنی گولی یا چھرہ شکار زخمی شد وشخص مذکور وقت سرکدن بندوق بسم الله الرحمن ا لله اکبر ہم گفتہ اماجانور مذکور قبل ازذبح مرد،آیا آں جانور شرعا حلال ست یا حرام؟ دریں مسئلہ درمیاں علمائے بندر کراچی مباحثہ واختلاف افتادہ است۔آخر الامر طرفین بریں قرار دادہ اند کہ ہر جو ابیکہ علمائے کرام بریلی دہند،جانبین تسلیم نمایند۔بینوا توجروا یوم الحساب۔ |
علمائے کرام رحمہم الله تعالٰی کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص بندوق سے شکار کرے اور تانبے کی گولی یا چھرہ سے شکار زخمی ہو کر ذبح سے قبل مرجائے اور وہ بندوق چلاتے وقت بسم الله الله اکبر پڑھ لے تو کیا وہ جانور حلال ہے یاحرام؟ اس مسئلہ میں بندر کراچی کے علماء کا مباحثہ واختلاف ہے بالآخر دونوں فریقوں نے قراردیا کہ علمائے بریلی جو بتائیں ہم تسلیم کرلیں گے،جواب دو اجر پاؤ قیامت کے روز۔(ت) |
الجواب:
|
حلال نیست زیرا کہ آلہ آں باید کہ دم بُرندہ دارد نہ آنکہ صدمہ شکنندہ یا گرمی سوزندہ |
حلال نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے خون بہانے والا آلہ چاہئے نہ کہ وہ جو ٹکڑا کر توڑے یا گرمی سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع