30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وموقوذۃ وما اکل السبع والمریضۃ مطلق الحیاۃ وان قلت کما اشرنا الیہ وعلیہ الفتوی [1]۔ |
لاٹھی زدہ،درندہ کی کھائی ہوئی،اور مریضہ میں مطلق حیات معتبر ہے اگر چہ حیات قلیل ہی ہو جیسا کہ ہم نے اس طرف اشارہ کردیا ہے۔اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت) |
مدارك التزیل میں ہے:
|
الموقوذۃ التی اثخنوہا ضربا بعصی اوحجر [2]۔ |
موقوذۃ وہ ہے جس کو لاٹھی یا پتھر سے مارا ہو۔(ت) |
معالم میں ہے:
|
قال قتادۃ کانوا یضربونہا بالعصٰی فاذا ماتت اکلوھا [3] اھ فظہران المضروب بکل مشقل کالبندقۃ ولو بندقۃ الرصاص کلہ من الموقوذۃ فیحل بالذکاۃ وان قلت الحیاۃ۔ |
قتادہ نےکہا جاہلیت میں لوگ لاٹھی مارتے جب مرجاتی تو اسے کھاتے تھے اھ،تو ظاہر ہوا کہ کسی دباؤ والی چیز سے ضرب لگی ہوئی جیسے بندق اگر چہ تابنے کی گولی ہو تو وہ موقوذہ یعنی لاٹھی زدہ کے حکم میں ہے تو وہ ذبح سے حلال ہوگی اگر چہ حیات قلیل ہو۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھو بالاحراق و الثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذلیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم [4]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مخفی نہیں کہ تانبےکی گولی کا زخم جلانے اور ثقل سے جوشدید دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔بنتاہے۔کیونکہ دھار نہیں ہوتی،لہذا اس زخم سے حلال نہ ہوگی،اسی پر ابن نجیم نے فتوٰی دیا ہے والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع