30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثبوت حلت میں نظر ہے کہ صرف دھار دار کا وجود ہی کافی نہیں،بلکہ تیقن بھی ضروری ہے،اس کی دھار سے قطع ہونا ہی باعث قتل ہوا۔اور یہاں ایسا نہیں کہ اس کا احراق وصدمہ شدید قاتل ہے کما سمعت اٰنفًا (جیسا کہ ابھی آپ نے سنا۔ت)تو محتمل کہ یہی وجہ قتل ہوا ہو،نہ قطع،اور بحالت شك و احتمال حکم حرمت ہے۔ہدایہ میں ہے:
|
الاصل فی ھذہ المسائل ان الموت اذا کان مضافا الی الجرح بیقین کان الصید حلالا،واذا کان مضافا الی الثقل بیقین کان حراما،وان وقع الشك و لایدری مات بالضرح او بالثقل کان حراما احتیاطا [1]۔ |
ان مسائل میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر موت یقینی طور پر زخم کی طرف منسوب ہو تو شکار حلال ہے،اور اگر وہ ثقل کی طرف منسوب ہو تو یقینا حرام ہے،اور اگر شك ہو اور معلوم نہ ہو کہ زخم سے مرا ہے یا ثقل سے تو احتیاطا حرام ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لایوکل مااصابہ البندقۃ فمات بہا لانہا تدق وتکسر ولا تجرح و کذٰلك ان رماہ بحجر وکذٰلك ان جرحہ، قالو اتاویلہ اذا کان ثقیلا وبہ حدۃ لاحتمال انہ قتلہ بثقلہ۔الخ[2]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بندوق لگنے سے ہلاك شدہ کو نہ کھایا جائے کیونکہ وہ دباؤ سے توڑتی ہے زخم نہیں کرتی،اور اسی طرح اگر پتھر مارااور دباؤ سے زخمی ہوا،وضاحت یہ ہے کہ اگر پتھر بھاری ہو اور اس کی دھار ہو تو حرام ہے کیونکہ احتمال ہے کہ ثقل کے دباؤ سے ہلاك ہواہو،اس لئے حرام ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۸۲: ۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
بسم الله الرحمٰن الرحیم،چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب (اس باب میں علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں۔ت)کہ ایك شخص نے بسم الله کہہ کر شکار پر بنددق چلائی،پس جس وقت جاکر دیکھا تو کوئی آثار اس میں زندگی کے نہ تھے اور نہ جنبش تھی،جس وقت کہ اس کو ذبح کیا تو خون نکلا اچھی طرح سے،پس وہ شکار حلال ہے یاحرام؟ اوراگر اس کو حلال نہ کرتے تو حلال ہو تایاحرام؟ اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع