30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۷۲: شمس الہدٰی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی محلہ سوداگراں ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
حضور پرنور کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ مچھلی کو اس کی آنت وغیرہ کے کھانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
مکروہ ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: مسئولہ شوکت علی صاحب ۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ (علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ت)کہ کھانا جھینگا کا درست ہے یانہیں؟ مکروہ ہے یاحرام؟
الجواب:
حمادیہ میں علماء کے دونوں قول نقل کئے ہیں،کہ بعض حرام کہتے ہیں اور بعض حلال۔
|
حیث قال الدود الذی یقال لہ جھینکہ عند بعض العلماء لانہ لایشبہ السمک،و انما یباح عندنا من صید البحر انواع السمک،وھذا لایکون کذٰلک، و قال بعضہم حلال لانہ یسمی باسم السمك [1]۔ |
جہاں انھوں نے کہا کہ وہ کیڑا جسے جھینگا کہا جاتاہےبعض کےنزدیك حرام ہےکیونکہ وہ مچھلی کےمشابہ نہیں ہے۔جبکہ ہمارے نزدیك سمندری شکار میں مچھلی کی اقسام ہی مباح ہیں،اور جھینگا ان میں سے نہیں ہے۔اور بعض نے کہا یہ حلال ہے کیونکہ اس کا نام مچھلی ہے۔(ت) |
اقول:عبارت حمادیہ سے ظاہر یہی ہے کہ ان کے نزدیك قول حرمت ہی مختار ہے کہ اسی کو تقدیم دی والتقدیم اٰیۃ التقدیم(مقدم کرنا مقدم بنانے کی علامت ہے۔ت)اور جھینگے کو دودیعنی کیڑا کہا او رکیڑے حرام ہیں،اور اہل حلت کی طرف سے دلیل میں یہ نہ کہا وہ مچھلی ہے بلکہ یہ کہ اس پر مچھلی کا نام بولا جاتاہے۔تحقیق مقام یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں مچھلی کے سوا تمام دریائی جانور مطلق حرام ہیں،تو جن کے خیال میں جھینگا مچھلی کی قسم سے نہیں ان کے نزدیك حرام ہواہی چاہئے مگر فقیر نے کتب لغت وکتب طب و کتب علم حیوان میں بالاتفاق اسی کی تصریح دیکھی کہ وہ مچھلی ہے۔قاموس میں ہے:
|
الاربیان بالکسر سمك کالدود [2]۔ |
اربیان کسرہ کے ساتھ،کیڑے کی طرح مچھلی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع