30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذبح سے مقصود اس کا جدا کرنا ہے۔ولہذا حدیث صحیح میں ارشاد ہوا:
|
ماانہر الدم وذکر اسم اﷲ علیہ فکلوا [1]،الحدیث، رواہ السئۃ عن رافع بن خدیج عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
جس کا خون بہا دیا گیا اور اس پر الله تعالٰی کا نام ذکر کیا گیا تو اسے کھاؤ،الحدیث،اس کو صحاح ستہ کے ائمہ نے روایت کیا رافع بن خدیج سے انھوں نے بنی پاك صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے۔(ت) |
اورفرمایا:
|
انہرالدم بما شئت واذکر سم اﷲ [2]رواہ احمد و النسائی وابوداؤد وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
خون بہادے جس سے تو چاہے۔اور الله تعالٰی کا نام ذکر کر،اس کو احمد نسائی،ابن ماجہ،ابن حبان اور حاکم نے عدی بن حاتم رضی الله تعالٰی عنہ سے انھوں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے۔(ت) |
اور وارد ہوا:
|
کل مافری الاوداج [3]۔الحدیث۔رواہ ابن ابی شیبۃ عن رافع بن خدیج والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
جو چیز اوداج کو کاٹ دے۔الحدیث،اس کو ابن ابی شیبہ نے حضرت رافع بن خدیج سے،اور طبرانی نے کبیر میں ابوامامہ رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت) |
مچھلی اور ٹیری میں خون ہوتاہی نہیں کہ اس کے اخراج کی حاجت ہو،غیر دموی کے نزدیك میں ہمارے یہاں صرف یہی دو حلال ہیں،لہذا صرف یہی بے ذبح کھائے جاتے ہیں،شافعیہ وغیرہم کے نزدیك کہ اور دریائی جانور بھی کل یا بعض حلال ہیں وہ انھیں بھی بے ذبح جائز جانتے ہیں کہ دریا کے کسی جانور میں خون نہیں ہوتا۔والله تعالٰی اعلم۔
[1] صحیح البخاری کتا ب الذبائح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۲۷ و ۸۳۱ و ۸۳۲،صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب جواز الذبح بکل ما انہرام الدم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۵۶
[2] سنن النسائی کتاب الضحایا اباحۃ الذبح بالعود نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۲۰۵،مسند احمد بن حنبل حدیث عدی بن حاتم المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۵۸
[3] المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الصید من قال اذا انہر الدم الخ ادارۃ القرآن کراچی ۵/ ۳۸۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع