30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی حرمۃ ھذہ الاشیاء [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ۱۷۰: مسئولہ مولوی غلام گیلانی صاحب شمس آباد ضلع کیمل پور ۲۵ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض ملکوں میں مچھلی خشك اور گوشت خشك کھایا جاتاہے،قبل پکانے کے تو تو اس میں سخت بدبو ہوتی ہے مگر بعد پکنے کے بھی بدبو باقی رہتی ہے،کیا اس کا کھانا جائز ہے یاناجائز؟ بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع ایسی سخت بدبودار چیز علاوہ اس کے کہ نفاست طبع کے خلاف ہے،نظافت دین سے بھی جدا ہے۔وبنی الدین علی النظافۃ (دین کی بنیاد نظافت پر ہے۔ت)مسموع ہوا کہ اس کے مستعلمین کے بدن و دہن میں اس کی بو بس جاتی ہے۔یہ علاوہ کراہت اکل کے اور بلائے شدید اور ملائکہ کو ایذا ہے۔
|
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان الملئکۃ تتاذی لما یتاذی بہ بنواٰدم [2]۔ |
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا:جس سے بنی آدم اذیت پائیں اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں (ت) |
اور ایسی حالت میں ان کو قرآن مجید پڑھنا منع ہے۔حدیث میں ہے:
|
طیبوا افواھکم فانہا طرق القراٰن [3]۔ |
اپنے منہ صاف رکھو کیونکہ یہ قرآن کا راستہ ہیں۔(ت) |
بلکہ جو بدبو پر مشتمل ہو اسے مسجد میں جانا حرام ہے۔اور جماعت میں شامل ہونا ممنوع ہے اور جبکہ اس سے ضرر غالب متحقق ہو،تو حرمت میں کیا شبہ ہے۔فان المضار کلہا حرام (سب ضرر رساں چیزیں حرام ہیں۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۱: مرسلہ از چاند پور ضلع بجنور محلہ پتیا پاڑہ مکان محمد حسین خاں زمیندار
مچھلی بے ذبح کیوں جائز ہے؟
الجواب:
خون مفسوح ناپاك ہے وہ بدن میں رہے اور جانور مرجائے تو تمام گوشت پوست نجس وحرام ہوجاتاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع