30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نجس وعند سائر الائمۃ یحل [1]اھ آرے درجواہر الاخلاطی دیدم کہ بکراہت تحریم تصریح وہمیں را تصحیح کردہ است،حیث قال اسمك الصغار کلہا مکروھۃ کراھۃ التحریم ھو الاصح [2]،پس اسلم اجتناب ست۔و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تمام ائمہ کرام کے نزدیك حلال ہے۔اھ،ہاں میں نے جواہر الاخلاطی میں دیکھا ہے انھوں نے اس کے مکروہ تحریمہ ہونے میں تصریح کی ہے۔اور اسی کی تصحیح کی ہے جہاں انھوں نے فرمایا کہ چھوٹی مچھلیاں تمام مکروہ تحریمہ ہیں اور یہی صحیح ہے، پس اجتناب بہترہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۶۹: مرسلہ محمد علی اکبر کوڑا سال سویم ڈھاکہ تاریخ ۱۴ جمادی الاول ۱۳۳۳ھ
کہ سوکھی مچھلی (جو دیار بنگالہ میں معروف ومشہور ہے)کھانا جائز ہے یانہیں؟ اور برتقدیر حلال ہونے کے اگر کوئی حرام کہے تو اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب:
مچھلی تر ہو یا خشک،مطقا حلال ہے۔
|
قال تعالٰی " اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ"[3]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:حلال کیا گیا تمھارے لئے بحری شکار کو۔(ت) |
سوائے طافی کے جو خود بخود بغیرکسی سبب ظاہر کے دریا میں مرکر اترا آتی ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
|
السمك یحل اکلہ الاماطفا منہ [4]۔ |
مچھلی کھانا حلال ہے ماسوائے پانی پر تیرنے والے مرکر۔(ت) |
خشك مچھلی کا کسی نے استثناء نہ کیا،اگر حرام کہنے والا جاہل ہے اسے سمجھا یا جائے،اور ذی علم ہے تو اس پر حلال خدا کے حرام کہنے کا الزام عائد ہے۔اسے تجدید اسلام وتجدیدنکاح چاہئے،ہاں اگر وہاں سوکھی مچھلی ماہی دریا کے سوا کسی خشکی کے جانور کا نام ہے، جیسے ریگ ماہی،تو اس کا حال معلوم ہونا چاہئے،اگر ریگ ماہی کی طرح حشرات الارض سے ہے تو ضرور حرام ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
|
جمیع الحشرات وھو ام الارض لاخلاف |
حشرات الارض مٹی سے پیدا شدہ ہے ان چیزوں کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع