30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاتاکلہ الیہود ونحن ناکلہ فرمایا،الجری بکسر الجیم والراء والتحتیۃ المشددتین وبفتح الجیم و الجریث بمثناۃفوقیۃ بعد التحتیۃ ضرب من السمك یشبہ الحیات وقیل سمك لا قشرلہ۔وقیل نوع عریض الوسط دقیق الطرفین [1]۔ |
کو یہودی نہیں کھاتے اور ہم کھاتے ہیں،اور آپ نے فرمایا جِرَی جیم اور راء کے کسرہ اور دو مشدد یاء اور جیم کے فتح کے ساتھ پڑھا جائے،اور جریث آخر میں ثاء سے پہلے یاء ہے،اور یہ مچھلی سانپ کی طرح ہوتی ہے،اور بعض نے کہا کہ اس پر چھلکا نہیں ہوتا اور بعض نے بتایا کہ درمیان سے چوڑی اور آگے پیچھے سے باریك ہوتی ہے۔(ت) |
مجمع بحارالانوار میں علامہ زرکشی سے ہے:
|
الجری بکسر جیم وراء مشددۃ وتشدید یاء ضرب من السمك یشبہ الحیات وقیل نوع غلیظ الوسط رقیق الطرفین،وقیل مالا قشرلہ [2]۔ |
جری جیم اور راء کے کسرہ اور شد کے ساتھ اور آخر میں مشدد یاء ہے یعنی مارماہی جو سانپ کے مشابہ ہوتی ہے۔بعض نے کہا درمیان سے موٹی اور آگے پیچھے سے باریك ہوتی ہے۔ اور بعض نے کہا اس پر چھلکا نہیں ہوتا (ت) |
اسی میں ہے:
|
لا تاکلوا الانکلیس بفتح ہمزۃ وکسرھا سمك شبیہ بالحیات (ای مارماہی)والا نقلیس لغۃ،وکرہ لرداء ۃ غذائۃ لالانہ حرام [3]۔ |
الانکلیس بفتح ہمزہ یاکسرہ ہے کومت کھاؤ،یہ سانپ کی مانند ایك مچھلی ہے یعنی مارماہی،ایك لغت میں الانقلیس کہا جاتا ہے اس کو کھانا اس لئے مکروہ ہےکہ کہ اس کی غذا ردی ہے اس لئے نہیں کہ وہ حرام ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
[1] صحیح البخاری کتاب الذبائح والصیدوالتسمیۃ باب قول الله تعالٰی احل الکم صید البحر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۲۵)(ارشاد والساری شرح صحیح البخاری کتاب الذبائح والصیدوالتسمیۃ باب قول الله تعالٰی احل الکم صید البحر دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۲۶۷
[2] مجمع بحار الانور اب الجیم مع الراء تحت الجری مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱ /۳۵۰
[3] مجمع بحار الانور باب الہمزہ مع النون تحت انکلس مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱ /۱۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع