30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)کھائیں،اس کا حکم مثل قربانی ہے،تین حصے مستحب ہیں،ایك اپنا ایك عزیزوں قریبوں کا ایك مسکینوں کا،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲: مرسلہ محمد حکیم الدین از ضلع پورینہ موضع چوپڑا ۴ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ خرگوش پنجہ والا ناخن دار مگر شترکی مانند ہے اور ہر چند میں حیض مثل عورتوں کے ہوتی ہے،اس کا کھانا حلا ل ہے یاحرام؟ لہذا بعض علماء کی زبانی سنا گیا ہے کہ خرگوش پنجہ والا ناخن دارحرام ہے جو خرگوش کہ حلال ہوتاہے اس کے کُھر ہوتاہے مانند بکری وبیل وغیرہ کے،جناب والا ! اس پر بھی ہم کو اطمینان کُل نہیں ہوتاہے۔اس لئے بخدمت فیض د رجت یہ کمترین بطور عریضہ ھذا روانہ کرتاہے ضرور بالضرور جواب سے اس ذرہ بےمقدار کو آفتاب درخشا فرمائیں گے۔زیادہ والسلام۔
الجواب:
خرگوش ضرور حلال ہے،اسے حرام جاننا رافضیوں کا مذہب ہے،خرگوش کے پنجے ہی ہوتے ہیں،کُھر والا خرکوش دینیا کے پردہ پر کہیں نہیں،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳ و ۱۶۴: مرسلہ مولوی حافظ مصاحب علی صاحب از مقام جاورہ مورخہ یکم رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱)بعض کفار جو کہ گوشت خور نہیں ہیں تالاب یا ندی سے مچھلیاں پکڑوا کر دیگر تالاب یا ندی محفوظ میں ڈلوادیں اس غرض سے کہ مسلمان مچھلیاں پکڑواکر نہ کھاسکیں،تو کیا ایسے تالاب یا ندی سے مسلمانوں کو مچھلیاں پکڑواکر کھانا جائز ہے یانہیں؟
(۲)زید،بکر،عمرو،خالد نے مل کر ایك کمپنی قائم کرکے ایك کارخانہ جاری کیا اور عام طور پر اعلان کردیا کہ جس کا دل چاہے اس کارخانہ میں شریك ہوجائے،فی حصہ ایك صد روپیہ قرار پایا ہے جو شخص جس قدر حصے خریدنا چاہے اسی قدر روپیہ کا منافع دیا جائے گا۔اوراگر کارخانہ میں نقصان ونفع ہوگا تو حصہ کے تناسب سے نقصان کا زیر بار ہونا پڑے گا۔خریدار حصہ سے خواہ ایك حصہ خریدے یا دس حصہ تین مرتبہ کرکے روپیہ کمپنی میں وصول کیا جائے گا،کارخانہ کو اختیار ہے جو کام چاہے جاری کرے، کسی خریدار حصہ کو امور کارخانہ میں واہل کارخانہ یعنی منیجر وغیرہ کے امور میں دخل اندازی کا اختیارنہ ہوگا،خریدار کو صرف نفع یا نقصان سے غرض ہے،اور خریدار حصہ اپنے خرید شدہ نفع یا نقصان سے فروخت کرنے کا مجاز ہوگا،پس سوال یہ ہے کہ ایسے کارخانہ میں شرکت اور اس کے بعد خرید وفروخت مذکور جائز ہے یانہیں؟ نیز یہ خرید وفروخت کس بیع میں داخل ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع