30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وبالله التوفیق۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: ازاوجین مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
مولٰنا صاحب مجمع فضائل ومنبع فواضل فرید العصر،وحید الزمان،مخدوم مکرمی دام افضالکم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدۃ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوٰی ارسال فرمایا،اس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ،یہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں،
|
لاباس بمالیس بذی مخلب کالبوم [1]الخ۔ |
جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔الخ۔(ت) |
تو کیا چمگادڑ اور باگل بھی حلال ہے؟ جواب بالتشریح بیان فرمائیے۔زیادہ نیاز،بینوا توجروا
الجواب:
چمگادڑ چھوٹاہو یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں،اس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ الله تعالٰی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہے،مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے، زمطلقًا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتاہو،ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں،ولہذا درمختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائی،ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے:
|
اما الخفاش فقد ذکر فی بعض المواضع انہ یوکل،وفی بعض المواضع انہ لا یوکل لان لہ نابا اھ [2] ورأیتنی کتبت علی ہامشہ مانصہ فیہ انہ لایصید بنابہ، و لایصول ولیس کل مالہ ناب حراما۔ |
چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے اوربعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایاجائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھ،مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کےلے سے شکارنہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتاہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع