30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غرض جب وہ شکاری جانور ہے تو اس کے حرام ہونے میں اصلا جائے کلام نہیں،رہا بعض عبارت حنفِیہ میں لفظ بوم کی نسبت لفظ یوکل وارد ہونا اقول: نہ وہ اجماعی قاعدہ فقہ حنفی وحدیث نبوی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مقابل ہو سکتا ہے نہ مشاہدات کو رد کر سکتا ہے اس سے بالتعین الو کی حلت ثابت ہی نہیں ہوتی،زبان عرب میں لفظ بوم خاص الو کے لیے موضوع نہیں،بلکہ ہر اس پرند پر اطلاق کیا جاتا ہے جو شب کو اپنے آشیانہ سے نکلتا ہے۔علامہ دمیری حیاۃ الحیوان میں فرماتے ہیں:
|
قال الجاحظ وانواعھا الھامۃ والصدی والضوع والخفاش وغراب اللیل والبومۃ وھذہ الاسماء کلھا مشترکۃ ای تقع علی کل طائر من طیر اللیل یخرج من بیتہ لیلا،قال وبعض ھذہ الطیور یصید الفار وسام ابرص والعصافیر وصغارالحشرات وبعضھا یصید البعوض،ومن طبعھا ان تدخل علی کل طائر فی وکرہ وتخرجہ منہ وتاکل فراخہ وبیضہ وھی قویۃ السلطان باللیل لایحتملھا شیئ من الطیر [1] |
جاحظ نے کہا،اور اس کے اقسام ہامہ،صدی،ضوع،خفاش، غراب اللیل،بوم نامی پرندے ہیں اوریہ تمام نام مشترك ہیں،یعنی رات کو اپنے گھر سے نکل کر پرواز کرنے والے ہر پرندے پربولتے ہیں،اورکہا ان پرندوں میں سے بعض چوہے،چھپکلی،چڑیوں اور چھوٹے چھوٹے حشرات کوشکار کرتے ہیں اور ان میں سے بعض مچھروں کاشکار کرتے ہیں اور وہ طبعی طورپرہرپرندے کے گھونسلے میں داخل ہوکر اس کو اڑاتا ہے اور اس کے چوزوں اور انڈوں کوکھاجاتے ہیں اور رات میں وہ قوی تسلط والے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی پرندہ ایسی قوت نہیں پاتا۔(ت) |
توجن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے الو مراد نہیں بلکہ وہ پرند شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہ،یہ معنی امام عتابی کی تصریح سے ثابت ہیں۔علامہ قہستانی جامع الرموز میں لکھتےہیں:
|
لاباس بما لیس بذی مخلب کالبوم فی روایۃ عن ابی یوسف،کما فی العتابی۔[2] |
امام ابو یوسف رحمہ الله تعالی سے ایك روایت یہ ہے کہ جن پرندوں کےپنجے نہیں ہیں ان کے کھانے میں حرج نہیں ہے، جیساکہ عتابی میں ہے۔(ت) |
پس حنفِیہ کی طرف حلت چغد کی نسبت ایك دھوکا ہے کہ اشتراك لفظ بوم سے پیداہوا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع